بھارت نے دریائے ستلج کے بعد دریائے توی میں بھی پانی چھوڑ دیا ہے جس کے باعث دریائے توی میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
وزارتِ آبی وسائل نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک ہی دن میں دوسرا ہنگامی الرٹ جاری کرتے ہوئے 28 اداروں کو پیشگی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔ڈائریکٹر جنرل PDMA پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے الرٹ جاری کیا گیا ہے اور جموں میں مسلسل بارشوں کے باعث دریائے توی میں ہائی فلڈ کا خطرہ موجود ہے۔ شمالی پنجاب میں بھی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے دریاؤں کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف ایک گھنٹے میں دریائے چناب میں ساٹھ ہزار کیوسک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ڈی جی PDMA کے مطابق ہیڈ مرالہ سے تریموں تک دس لاکھ کیوسک کا سیلابی ریلا گزر چکا ہے۔ نالہ ڈیک کے باعث سیالکوٹ، نارووال اور پسرور کے علاقے شدید متاثر ہوئے ہیں اور خدشہ ہے کہ ان علاقوں میں مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ دریائے ستلج میں ہائی فلڈ کی صورتحال بدستور قائم ہے جس کے نتیجے میں میلسی، بہاولپور اور بہاولنگر کے علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔
دریائے راوی میں ہیڈ سدھنائی کے مقام پر انتہائی خطرناک اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے جہاں پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 77 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔ ایمرجنسی صورتحال کے پیش نظر مائی صفورہ بند میں بارودی مواد کے ذریعے دو شگاف ڈال کر بریچنگ کی گئی ہے تاکہ دباؤ کو کم کیا جا سکے۔بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد دریائے چناب کی سطح بھی مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 71 ہزار 691 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ وزیرآباد اور گردونواح میں بھی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔سیلابی ریلا پنجاب سے نکل کر آہستہ آہستہ سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت سندھ نے کچے کے علاقوں سے لوگوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا ہے اور صوبائی وزراء نے متاثرہ عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر علاقے خالی کر دیں۔دوسری جانب ملک کے بڑے آبی ذخائر میں بھی پانی کی سطح بڑھنے لگی ہے۔ منگلا ڈیم گزشتہ 24 گھنٹوں میں 85 فیصد بھر گیا ہے جہاں پانی کی سطح 1227 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح خانپور ڈیم کی سطح 1981 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ راول، سملی اور تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔