لاہور/اسلام آباد: دریائے چناب میں پنڈی بھٹیاں کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس سے لاہور-اسلام آباد موٹروے (M-2) کے ساتھ پانی کی حد 6 فٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔
اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو موٹروے کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہونے کا خدشہ ہے۔سیلابی پانی کے باعث علاقے میں شدید نقصان اور تباہی کا منظر پیش آیا ہے۔ 30 سے زائد دیہات مکمل طور پر سیلابی پانی میں ڈوب گئے ہیں، اور مقامی افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کچہ گھرنہ کے علاقے میں بیس سے زائد لوگ دریائے چناب کے پانی میں پھنس گئے ہیں، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔متاثرہ افراد کو بچانے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے اور انتظامیہ نے مقامی لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہوں۔ پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کے پیش نظر موٹروے کی ٹریفک روکنے اور ایمرجنسی اقدامات کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔سیلاب کے سبب زرعی زمین، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، اور مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیمیں 24 گھنٹے الرٹ ہیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔