چناب کا سیلابی ریلا ملتان ڈویژن پہنچ گیا، درجنوں بستیاں زیر آب

چناب کا سیلابی ریلا ملتان ڈویژن پہنچ گیا، درجنوں بستیاں زیر آب

ملتان: دریائے چناب کا خطرناک سیلابی ریلا ملتان ڈویژن کی حدود میں داخل ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔

 ملتان شہر کے بچاؤ کے لیے قائم اکبر فلڈ بند پر پانی کی سطح میں 3 سے 4 فٹ اضافہ ہو گیا، جس سے اس بند کے قریب رہنے والے کئی گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ہیڈ محمد والا کی سڑک کو پہلے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا تھا، اور اب اطلاعات ہیں کہ سڑک میں شگاف ڈالنے کے لیے بارودی مواد بھی نصب کر دیا گیا ہے تاکہ پانی کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔ دریائے چناب کے بڑھتے ہوئے سیلابی بہاؤ کی وجہ سے ملتان میں مزید درجنوں بستیاں زیر آب آ چکی ہیں۔سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو دن کے وقت ڈرونز کے ذریعے تلاش کیا جا رہا ہے، جبکہ رات کے وقت یہ آپریشن روک دیا گیا ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں خالی کیے گئے گھروں میں چوری روکنے کے لیے بھی ڈرونز کے ذریعے نگرانی جاری ہے۔

دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 99 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر آبپاشی کے مطابق فی الحال صورت حال خطرناک نہیں ہے، تاہم پانی کا دباؤ بڑھنے کی صورت میں بند توڑنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔دوسری جانب شمالی پنجاب میں بھی دریائے چناب میں نیا سیلاب جنم لے رہا ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات ہیڈ مرالہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔چناب کے سیلاب سے جھنگ میں 261 دیہات زیر آب آ چکے ہیں، جبکہ مظفرگڑھ کے رنگ پور کے مقام پر سیلابی ریلے سے 24 سے زائد دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ مظفرگڑھ میں بھی دریائے چناب کا پانی مسلسل بڑھ رہا ہے، جس سے علاقے میں خطرہ برقرار ہے۔