سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں؛ درجنوں بستیاں متاثر، فصلیں برباد، 3 افراد جان کی بازی ہار گئے

سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں؛ درجنوں بستیاں متاثر، فصلیں برباد، 3 افراد جان کی بازی ہار گئے

وسطی اور جنوبی پنجاب کے بعد سندھ میں سیلابی تباہی کی ایک جامع جھلک پیش کرتی ہے۔

 اس کی تفصیل اور اہم نکات کچھ یوں ہیں:

 خیرپور
ایک کمسن بچی تیز پانی میں بہہ گئی۔گزشتہ 3 دنوں میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہو گئی ہے۔
 اوچ شریف (ضلع بہاولپور)
سیلاب زدہ علاقے میں 6 بچوں کے والد اختر اپنے مویشی بچاتے ہوئے جاں بحق ہو گئے۔بیوہ نے حکومت سے مدد کی اپیل کی، ان کا کہنا ہے کہ پہلے گھر کھویا، اب شوہر بھی چلا گیا، بچوں کا مستقبل غیر محفوظ ہے۔
 دادو (تحصیل مہر)
دریائے سندھ کے سیلابی پانی نے سعیدی موسانی شہر اور 5 دیہاتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔گھروں، دکانوں، قبرستانوں اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔متاثرین نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
انتظامیہ کی جانب سے کوئی مدد نہ پہنچنے کی شکایات سامنے آئیں۔
 مبارک پور
دریائے ستلج کے قہر سے ایک خاندان کے 35 سے 40 افراد بے گھر ہو گئے۔خاندان کے 11 کمرے پانی میں بہہ گئے۔متاثرین کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور فوری امداد کی اپیل کر رہے ہیں۔
 کہروڑ پکا
سیلاب نے درجنوں دیہات کو متاثر کیا۔106 دیہاتوں میں سے 40 براہِ راست متاثر ہوئے۔15,000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔25,000 ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔
 کھاریاں
سیلابی پانی جمع ہونے سے بیماریاں پھیلنے لگیں۔پانی جراثیموں کی افزائش گاہ بن گیا۔طبی سہولیات کی شدید کمی ہے۔
 عارف والا، پاکپتن اور قبولہ
ہزاروں متاثرین امداد کے منتظر ہیں۔متاثرین کی فصلیں، مال مویشی اور قیمتی اشیاء مکمل تباہ ہو چکیں۔ایک ماہ سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حکومت سے فوری امداد اور بحالی کی اپیل کی جا رہی ہے۔
  مجموعی تصویر:
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سیلاب نے صرف انفراسٹرکچر اور معیشت ہی نہیں بلکہ انسانی جانوں اور معاشرتی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ لوگ اپنی بنیادی ضروریات جیسے خوراک، رہائش اور طبی سہولتوں سے محروم ہیں جبکہ متاثرہ خاندان بے بسی کے عالم میں حکومتی مدد کے منتظر ہیں۔