راولپنڈی(آئی این پی) یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے ربیع سیزن کی فصلوں گندم ، چنا ، مسور، سرسوں ، جو ، تمباکو اور رائی کے لئے دستیاب آبی وسائل میں 27 فیصد کمی نے کسان کمیونٹی کوشدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ چھوٹے کاشتکار مہنگے زرعی مداخل ، منافع میں کمی ، زرعی پالیسی کی عدم موجودگی اورآبپاشی کیلئے پانی کی غیر یقینی صورتحال میں اپنا بچا کھچا سرمایہ فصلوں کی بجائے دیگر شعبوں میں لگانے پر سنجیدہ غور کر رہے ہیں ۔ پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات خالد نواز سدھرائچ نے جمعہ کے روزایک بیان میں انکشاف کیا کہ ملک بھر کے بیشتر چھوٹے کاشتکاروں نے مقامی پی ٹی آئی کسان ونگ تنظیموں کو آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران ان کا زرعی سرمایہ فصلوں کی منصفانہ قیمتیں نہ ملنے کے باعث تقریباً ختم ہو چکا ہے