وزیراعظم کا پاک امریکہ تجارتی تعلقات میں بہتری پراظہار اطمینان ،امریکی کمپنیوں کو زراعت، آئی ٹی، کان کنی اور معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

بھارت کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار اب امن جیتنے کے خواہشمند ہیں شہبازشریف
مذاکرات کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ،کوئی بھی جارحیت ہوئی تو پہلے سے زیادہ طاقت سے جواب ملے گا،ہماری فضائیہ نے فضا میںبادشاہت  برقرار رکھی ، جارح بھارتی فضائیہ کے سات جہاز ملبے کا ڈھیر بنا دیئے 
سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کو جنگ تصور کیا جائے گا ، پھر دنیا ہم سے کوئی گلہ نہ کرے ‘پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے‘ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے:اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب 
 ٹرمپ   امن  کے  علمبردار‘پاک امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے‘ پاک بھارت سیز فائر اور غزہ جنگ بندی  کیلئے  کوششیں قابل تعریف ہیں:وزیر اعظم   اور فیلڈ مارشل کی امریکی صدر سے ملاقات کا اعلامیہ ‘ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت

نیویارک (آئی این پی )وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے  بھارت سے جنگ جیتنے کے باوجود تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں ،فلسطین اب مزید اسرائیلی بیڑیوں میں نہیں رہ سکتا، اسے آزاد ہونا چاہیے اور پوری وابستگی اور پوری قوت کے ساتھ آزاد ہونا چاہیے،کستان فلسطین کو 1988 میں بطور ریاست تسلیم کرچکا ہے، دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں،پاکستان اور پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ایک دن بھارت کا ظلم و ستم وادی میں مکمل طور پر رک جائے گا اور کشمیر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ایک غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے بنیادی حق خودارادیت حاصل کرے گا۔  نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس میں قرآن پاک کی آیت کریمہ کے آغاز سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف   نے کہا کہ سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے مشکل ترین حالات میں اقوام متحدہ کی قیادت کی۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں انسانی بحران بڑھتے جا رہے ہیں،دہشت گردی دنیا کیلئے   ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے،گمراہ کن پروپیگنڈا اورجعلی خبروں نیاعتماد کومتزلزل کردیا ہے۔وزیراعظم  نے کہا  کہ ماحولیاتی تبدیلی بڑا چیلنج ہے جو ہماری بقا کوخطرے میں ڈال رہی ہے، بھارت سیاسی گیم کھیل رہا ہے، دنیا بھر میں تنازعات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں، پہلگام واقعہ کو سیاسی طور پر استعمال کیا گیا۔شہبازشریف نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں حالیہ جنگ میں پاکستان نے اپنے دشمنوں کی جارحیت کا بھر پور جواب دیا، پاک فضائیہ نے پیشہ ورانہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے  بھارت کے 7 طیارے گرائے، بھارت یہ تاریخی جواب ہمیشہ یاد رکھے گا۔ ہم تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ اگر مداخلت نہ کرتے اور سیز فائر نہ کراتے تو ہم مکمل جنگ جیت چکے تھے، امریکی صدر کو جنگ رکوانے پر نوبل پرائز دیا جانا چاہیے‘ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگ تصور ہوگی، 24 کروڑ پاکستانیوں کے لیے پانی لائف لائن ہے، بھارت آبی جارحیت سے باز رہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن مطابق امن، باہمی احترام، اور تعاون پر مبنی ہے، ہم مذاکرات اور سفاری کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ا نہوںنے کہا کہ جتنی جلدی ہو سکے غزہ میں جنگ بندی کرائی جائے، غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ عالمی اداروں کی ناکامی ہے، پاکستان فلسطین کو 1988 میں بطور ریاست تسلیم کرچکا ہے، دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کریں۔،پاکستان کے لوگ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں، ایک دن بھارت کا ظلم و ستم وادی میں مکمل طور پر رک جائے گا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر کو امن کا علمبردارقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں تنازعات کے خاتمے  کیلئے  مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہیں، ان کی قیادت میں پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے جمعہ کو وائٹ ہائوس میں  ملاقات گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیوزیراعظم شہبازشریف اورآرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پرجوش خیر مقدم کیا، وائٹ ہائوس کے اوول آفس کے دوستانہ ماحول میں ہونے والی بیٹھک ایک گھنٹہ 20 منٹ تک جاری رہی،  امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔  وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کو دورہ پاکستان کی دعوت دی