بدحالی کا شکار کسان اورکاشتکار بے یارو مددگار اپنی محنت کا پھل دوسروں کی جھولی میںگرتا دیکھے گا
راولپنڈی (آئی این پی ) پی ٹی آئی کسان ونگ کے ترجمان خالد نواز سدھرائچ نے کہا ہے کہ ۔ مجبور کسانوںنے جب گندم کی فصل خراب ہونے کے ڈر سے 2200 روپے فی من فروخت کر دی تو اس کے بعد اب حکومت گندم خریداری کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کر رہی ہے جس کا فائدہ اب کسانوں سے اونے پونے داموں گندم خرید کر ذخیرہ کرنے والے مڈل مین اٹھائیں گے جبکہ کسان حسرت و یاس کی تصویر بن کر یہ تماشا دیکھتے رہ جائیں گے ۔ مختلف کسان تنظیموں کے ساتھ مشاورتی اجلاسات کے بعد جاری بیان میں پی ٹی آئی کسان ونگ کے ترجمان نے کہا کہ جب گندم کی کٹائی کے بعد فضل کھلے آسمان تلے پڑی تھی اوراس کے خراب ہونے کا خدشہ تھا اس وقت حکومت نے کوئی ایکشن نہیںلیا ۔ حکومت کے اس عمل سے ناجائز منافع خور اورذخیرہ اندوز سرمایہ کاروںنے فائدہ اٹھایا اورکسانوں سے 22 سو روپے فی من گندم خرید لی ۔ انہوںنے کہا کہ اب حکومت مڈل مین سے گندم خرید کر اسے 1300 روپے فی من فائدہ دے گی، بدحالی کا شکار کسان اورکاشتکار بے یارو مددگار اپنی محنت کا پھل دوسروں کی جھولی میںگرتا دیکھے گا