حکومت اورپوزیشن مذاکرا ت کا پہلا دور بے نتیجہ ختم رانا ثنااللہ اور راجہ ناصر عباس میں تلخ کلامی‘دونوں جماعتوں کے رہنما آج پھرملیں گے

 سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر کے کمیٹی روم میں   مذاکرات ہوئے ‘اپوزیشن کا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا مطالبہ‘عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں ‘حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی:راناثناء اللہ
مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے:بیرسٹر گوہر‘ ہمیں اپنے لیڈر سے ملاقات کرنے دی جائے:سلمان اکرم راجہ‘اسدقیصر‘ بانی سے ملاقات کے بغیر معاملات حل ہو ہی نہیں سکتے‘ کچھ شرائط طے ہونی چاہیے:راجہ ناصر عباس
اسلام آباد(آئی این پی ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر  مذاکرات کے پہلے دور میں  فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے،دوسرا  دور آج (ہفتہ کو) ہوگا۔  حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعے کے روز  سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر کے کمیٹی روم میں   مذاکرات ہوئے ۔  حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق  نے کی جب کہ دیگر ارکان میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثنا اللہ بھی شریک  تھیاپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل  تھے ۔پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک  ہوگئے ۔اپوزیشن وفد کا اسپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا۔ذرائع کے مطابق مذاکراتی دور میں فریقین کے درمیان بعض معاملات پر گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی تاہم  اس دوران دونوں جانب سے بات چیت میں کوئی تعطل نہیں آیا اور مذاکرات بدستور جاری  رہے ۔سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے اراکین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے   اور اپنے اپنے مطالبات اور تجاویز پر مشاورت  کی ۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما  ئوں نے اپنے  قائدین کو بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیرِ بحث معاملات سے آگاہ  کیا ۔دوسری جانب حکومتی ارکا ن نے  اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور سفارشات پر مشاورت کی ۔ذرائع کے مطابق کمیٹی روم میں جاری مذاکرات میں رانا ثنااللہ اور راجا ناصر عباس کے درمیان عدالتی معاملات پر تبادلہ خیال کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راجا ناصرعباس نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی کے حکومتی اقدامات پر تنقید اور مایوسی کا اظہار کیا۔اس موقع پر رانا ثنااللہ نے موقف اپنایا  عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔حکومتی وفد نے سخت مقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی اور لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکیاں دینا درست سیاسی رویہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان نے یہ بھی موقف اپنایا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کی اور فریقین پر افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین نے مذاکرات کے دوران زیادہ تر خاموشی اختیار کیے رکھی۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل ختم ہوچکا ہے، ہمیں پانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت چاہیے، اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ ایسا ہی رہے گا ہمیں پانی پی ٹی آئی کی رہائی اور انصاف چاہیے۔اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہم بانی سے اس لیے ملاقات چاہتے ہیں تاکہ ان سے مل کر ایجنڈا طے کریں، ہم بانی سے ملاقات کریں گے اور اس کی روشنی میں آگے بڑھاجائیگا، عمران خان کی بہنوں کے حوالے سے بات ہوگی لیکن بانی سے ملنے کا معاملہ سب سے اہم ہے، سب سے پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملاقات کرنے دی جائے۔عامر ڈوگر کا کہنا تھا میں شروع سے ملاقات اور مذاکرات کا حامی ہوں، سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کسی ادارے کے ساتھ ہمارا تصادم یا لڑائی ہو۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے محمود اچکزئی کی ملاقات کا معاملہ رکھیں گے، بانی سے ملاقات کے بغیر معاملات حل ہو ہی نہیں سکتے، ان مذاکرت کے حوالے سے کچھ شرائط طے ہونی چاہیے، مسائل کا آسان ترین حل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے۔