سیاسی جماعتوں سے اختلاف اپنی جگہ، آرمی چیف اور اداروں کیخلاف مہم جوئی کا کیا جواز ہے؟،رانا ثنااللہ

عمران خان نے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کرنا ہے، ا مذاکرات چاہتے تو ان کے سوشل میڈیا کو قومی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی اور مہم جوئی سے دستبردار ہونا پڑیگا
 بانی کے سواپی ٹی آئی کے 95 فیصد لوگ بھی مذاکرات کے حق میں ہیں ، ن لیگ کی لیڈرشپ بھی سمجھتی ہیں ہے کہ سیاسی مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل ہونا چاہیے
اسلام آباد(آئی این پی )وزیراعظم کے مشیربرائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے اختلاف اپنی جگہ ، لیکن آرمی چیف اور اداروں کیخلاف مہم جوئی کا کیا جواز ہے؟ کیاایسی مہم جوئی کی صورتحال میں مذاکرات کی بات آگے بڑھ سکتی ہے؟ عمران خان نے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کرنا ہے، اگر مذاکرات چاہتے تو ان کے سوشل میڈیا کو قومی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی اور مہم جوئی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی لیڈرشپ بھی سمجھتی ہیں ہے کہ سیاسی مسائل کو مذاکرات کی میز پر حل ہونا چاہئے، وزیراعظم جب اپوزیشن لیڈر تھے تب بھی انہوں نے چارٹرڈ آف اکانومی کی پیشکش کی تھی، بلاول بھٹو نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔لیکن عمران خان نے اس بات سے انکار کیا، ان کا ردعمل بڑا منفی تھا، ن لیگ میں ایسے لوگ ہیں جو ڈائیلاگ چاہتے ہیں، پی ٹی آئی میں بھی دوسرے درجے کی سینئر قیادت چاہتی ہے کہ ڈائیلاگ ہونے چاہئیں۔لیکن عمران خان مذاکرات نہیں چاہتے، ان کا ایک ہی ایجنڈا رہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ عمران خان نے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کرنا ہے، اگر وہ مذاکرات چاہتے تو ان کے سوشل میڈیا کو قومی اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی اور مہم جوئی سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ان کا سوشل میڈیا وہی بیانیہ اپنائے ہوئے ہے جو دشمن ملک ہندوستان کا میڈیا اپنایا ہوا ہے، اسی طرح جس قسم کی گفتگو افغانستان کی طرف سے ہوتی ہے۔ پھر کہتے 8فروری کو ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔سیاسی جماعتوں سے اختلاف اپنی جگہ ، لیکن آرمی چیف اور اداروں کیخلاف مہم جوئی کا کیا جواز ہے؟ کیاایسی مہم جوئی کی صورتحال میں مذاکرات کی بات آگے بڑھ سکتی ہے؟26ویں ترمیم کیلئے سوائے عمران خان کے تمام جماعتیں متفق تھیں، عمران خان کے سواپی ٹی آئی کے 95 فیصد لوگ بھی مذاکرات کے حق میں ہیں۔