عبداللطیف بیگ
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر گہرا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ’’لانگ مارچ‘‘، ’’دھرنے‘‘ اور’’احتجاج‘‘ اس ملک کے سیاسی مزاج کا ایک مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ جب بھی ملک میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا ہے، یا کوئی سیاسی جماعت مقتدر حلقوں اور حکومتِ وقت سے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے، تو وہ احتجاج کے اس روایتی اور جمہوری راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ آئینِ پاکستان ہر شہری اور سیاسی تنظیم کو پرامن احتجاج اور آزادیِ اظہار کا بنیادی حق دیتا ہے، لیکن جب یہ سیاسی سرگرمیاں اور بیانیے عملی میدان میں اترتے ہیں، تو ان کے اثرات ملک کے دو بڑے حصوںیعنی عام عوام اور سیاسی قیادت پر بالکل مختلف اور متضاد انداز میں مرتب ہوتے ہیں۔
میں نے اپنے پچاس سالہ صحافتی کیریئر میں ملکی سیاست کے بہت سے اتار چڑھائو، حکومتوں کے آنے اور جانے کے مناظر، اور درجنوں لانگ مارچ بہت قریب سے دیکھے ہیں۔ میں نے اس نصف صدی کی صحافت میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے لے کر موجودہ عہد تک کے تمام اہم سیاسی موڑ، دھرنے، اور احتجاجی تحریکیں نہ صرف کور کیں بلکہ ان کے پیچھے کارفرما سیاسی و انتظامی محرکات کا بھی باریک بینی سے مشاہدہ کیا۔ لیکن آج، اپنے اس طویل تجربے کی روشنی میں جب میں موجودہ ملکی صورتحال کو دیکھتا ہوں، تو مجھے اس بار کچھ الگ سا، کچھ مختلف سا اور کچھ زیادہ تشویشناک نظر آ رہا ہے۔ ماضی میں ہونے والے احتجاجی مارچوں کا ایک مخصوص سیاسی و روایتی انداز ہوتا تھا، جہاں تنائو کے باوجود مذاکرات اور واپسی کے راستے کھلے رہتے تھے، مگر اب ملکی سیاست میں جو شدید ترین نظریاتی و ذاتی تقسیم آ چکی ہے، اس نے انتظامی حکمتِ عملی اور احتجاج کے انداز دونوں کو ہی ایک ایسی نئی اور خطرناک نہج پر پہنچا دیا ہے جس نے عام شہری کی زندگی اور ملکی استحکام دونوں کے لیے ہیجانی کیفیت کو پہلے سے کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
اس پورے منظرنامے کا پہلا اور سب سے متاثرہ فریق وہ عام شہری ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کا کارکن نہیں ہوتا، بلکہ وہ صبح اپنے گھر سے صرف اس لیے نکلتا ہے تاکہ شام کو اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کما کر لا سکے، یا کوئی طالب علم جو امتحان دینے جا رہا ہو، یا کوئی مجبور مریض جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال پہنچنا ہو۔ جب بھی سیاسی دبائوبڑھتا ہے، تو جڑواں شہروں سمیت ملک کی تمام بڑی شاہراہوں اور موٹر ویز پر حکومت کی جانب سے انتظامی اقدامات کے نام پر ہزاروں لوہے کے ویلڈیڈ کنٹینرز کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ سڑکوں کی یہ غیر معینہ بندش، جس میں اب کنٹینرز پر لوہے کی نوکیلی کیلیں لگانے جیسے غیر معمولی طریقے بھی شامل کر لیے گئے ہیں، عام آدمی کے بنیادی حقوق کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی، اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال جہاں معاشی طور پر دیہاڑی دار طبقے، چھوٹے دکان داروں اور تاجر برادری کی کمر توڑ دیتی ہے، وہاں عام شہریوں کے لیے شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا باعث بنتی ہے۔ شہریوں کا یہ سوال اپنی جگہ بالکل درست اور جاندار ہے کہ ان کے آئینی حقوق، جیسے نقل و حرکت اور آزادانہ کاروبار کی آزادی، کو سیاسی مفادات یا انتظامی خوف کی بھینٹ کیوں چڑھایا جاتا ہے؟ انتظامیہ کا کنٹینرز لگا کر پورے دارالحکومت کو سیل کر دینا امن و امان کے قیام کے لیے تو ان کی نظر میں شاید ناگزیر ہو، لیکن یہ طریقہ کار عملاً عام آدمی کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیتا ہے۔
اگر ہم سکے کا دوسرا رخ دیکھیں تو سیاسی تجزیہ کار اور خود سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق نظر آتی ہیں کہ موجودہ نظام میں اپوزیشن جماعتوں کے پاس اپنی آواز حکامِ بالا اور مقتدر حلقوں تک پہنچانے، اور حکومت پر اپنے آئینی مطالبات کے لیے دبائوبڑھانے کے لیے احتجاج کے سوا کوئی دوسرا موثر یا متبادل راستہ باقی نہیں بچتا۔ جب پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن کی آواز کو دبایا جائے، یا جمہوری فورمز پر ان کی جائز شکایات کی شنوائی نہ ہو، تو اسٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اپنی بقا قائم رکھنے، اپنے بیانیے کو زندہ رکھنے اور اپنے مایوس کارکنان کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے ایک ناگزیر ہتھیار بن جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں کیے جانے والے کئی لانگ مارچوں، دھرنوں اور سیاسی تحریکوں کے نتیجے میں ہی بلاآخر پسِ پردہ مذاکرات کے بند دروازے کھلے، سیاسی قیدیوں کو قانونی ریلیف حاصل ہوا، اور حکومتوں کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنی پڑی۔ تحریکِ انصاف ہو یا ملک کی کوئی بھی دوسری بڑی سیاسی جماعت، سیاسی قیادت کے لیے یہ مارچ ان کی عوامی مقبولیت ثابت کرنے اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات منوانے کا ایک قانونی و آئینی ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
ایک طویل صحافتی سفر کا مسافر ہونے کے ناطے، میرا تجربہ مجھے یہ بتاتا ہے کہ موجودہ بحران کا حل نہ تو کنٹینرز کی دیواریں کھڑی کرنے میں ہے اور نہ ہی سڑکوں پر لامتناہی دھرنے دینے میں۔ طاقت کا بے جا استعمال یا شہروں کو یرغمال بنا لینا عارضی طور پر کسی ایک فریق کو فائدہ تو پہنچا سکتا ہے، لیکن یہ ملکی معیشت اور سماجی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔ پاکستان اس وقت جس نازک معاشی دور سے گزر رہا ہے، وہاں اس قسم کا سیاسی ٹکرائواور ہیجان ملکی ترقی کو مزید پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ اس سنگین مسئلے کا واحد پائیدار اور مستقل حل یہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی اپنی سیاسی انا اور ہٹ دھرمی کو پسِ پشت ڈال کر افہام و تفہیم کا راستہ اپنائیں، اور پارلیمنٹ کو سڑکوں کے بجائے اپنا اصل میدانِ عمل بنائیں۔
تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز اور مقتدر حلقوں کو مل کر ایک ایسا عمرانی معاہدہ یا ’’چارٹر آف پروٹیسٹ‘‘طے کرنا چاہیے، جس کے تحت جہاں اپوزیشن کا پرامن احتجاج کا جمہوری و آئینی حق پوری طرح محفوظ رہے، وہاں ملکی معیشت کا پہیہ، تجارتی سرگرمیاں، اسپتال، تعلیمی ادارے اور عام آدمی کا روزگار کسی بھی صورت متاثر نہ ہو۔ جب تک ملک کی تمام سیاسی قوتیں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر قواعد و ضوابط طے نہیں کریں گی، تب تک ہر آنے والا لانگ مارچ غریب عوام کے لیے ایک نیا دردِ سر، کاروبار کے لیے تباہی، اور تحریک چلانے والی قیادت کے لیے عارضی ریلیف یا آزمائش کا باعث بنتا رہے گا، اور ملک اسی دائرے میں گھومتا رہے گا۔