جائیں تو جائیں کہاں؟ٹریفک پولیس کا اصل المیہ

کاشف بٹ
پاکستان کے شہروں کی سڑکوں پر اگر آپ روزانہ کا منظر دیکھیں تو ایک طرف عوام بھاری جرمانوں کے بوجھ تلے کراہ رہی ہے اور دوسری جانب ٹریفک اہلکار خود اپنے افسروں کے دباؤ میں پس رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے  میڈیا پر آنے والے ٹریفک کے اعلیٰ افسران بڑے فخر سے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ "اہلکاروں کو کسی قسم کا چالانوں کا ٹارگٹ نہیں دیا گیا" مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
اہلکاروں کو زبانی احکامات کی صورت میں یہ باور کروایا جاتا ہے کہ روزانہ یا ماہانہ اتنے چالان ہر حال میں کرنے ہیں۔ اگر ٹارگٹ پورا نہ ہو تو افسران کی سخت سرزنش اور محکمانہ کارروائی کا خطرہ منڈلاتا ہے۔ یوں یہ اہلکار دوہری تلوار کے نیچے آجاتے ہیں—افسران کو راضی کریں تو عوام کا غصہ سہنا پڑتا ہے، اور عوام کو ریلیف دیں تو محکمے کا عتاب ان پر ٹوٹتا ہے۔یہاں سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان، جو وردی پہن کر خدمت کا جذبہ لے کر اس فورس میں آتے ہیں، وہی سڑکوں پر تذلیل کا نشانہ بن رہے ہیں۔ عوام انہیں کرپٹ اور ظالم سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں وہ خود ایک ایسے نظام کا شکار ہیں جس نے انہیں صرف "ریونیو اکٹھا کرنے والی مشین" بنا دیا ہے۔
اس نظام نے ٹریفک پولیس کے مقصد کو ہی بدل دیا ہے۔ اصل مقصد تھا عوام کو سہولت دینا، ٹریفک کی روانی بہتر بنانا، حادثات کو روکنا اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا۔ مگر آج سارا زور چالانوں کی تعداد پر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر نظام نے ہی اہلکار کو افسران اور عوام دونوں کے درمیان پسنے پر مجبور کر دیا ہے تو وہ جائیں تو جائیں کہاں؟ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹریفک پولیس کو ریونیو اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے حقیقی معنوں میں عوامی خدمت کی فورس بنایا جائے۔ اگر افسران صرف "ٹارگٹ کلچر" کے بجائے تربیت، شعور اور عوامی سہولت کو ترجیح دیں تو نہ عوام اذیت میں ہوگی اور نہ اہلکار ذلیل و خوار ہوں گے