طلعت بٹ
لانگ مارچ محض سڑکوں پر نکلنے والے ہجوم کا نام نہیں، بلکہ یہ اس سیاسی بے چینی، عوامی اضطراب اور اقتدار کی کشمکش کی علامت بھی بن چکا ہے جو وقتاً فوقتاً ملک کے سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہوتی رہتی ہے. جب سیاسی جماعتیں اپنے مطالبات منوانے کے لیے سڑکوں کا رخ کرتی ہیں تو صرف یہ نہیں ہوتا کہ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام، حکومت دباؤ میں آئے گی یا نہیں، اور مذاکرات ہوں گے یا تصادم، سوچنا یہ چاہئے کہ اس تمام سیاسی سرگرمی کے دوران پاکستانی عوام کا مستقبل کس سمت جا رہا ہے؟ ایک ایسے ملک میں جہاں عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بلوں، تعلیمی اخراجات، علاج معالجے کی مشکلات اور معاشی غیر یقینی صورتِ حال سے نبرد آزما ہو، وہاں ہر سیاسی تحریک کو اپنی حکمت عملی کے ساتھ عوامی مفاد کا حساب بھی دینا چاہیے. سیاست کا بنیادی مقصد اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگی بہتر بنانا ہونا چاہیے. اگر سیاسی سرگرمیوں کے نتیجے میں عوام کے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائیں تو پھر ان تحریکوں کے مقاصد اور طریقہ کار پر سوال اٹھنا ایک فطری امر ہے. لانگ مارچ جمہوری حق یا عوام کے لیے نئی آزمائش؟ جمہوری معاشروں میں پْرامن احتجاج عوام کا حق ہوتا ہے. جب عوام یا سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ ان کی آواز ایوانوں، اداروں یا متعلقہ حکام تک مؤثر انداز میں نہیں پہنچ رہی تو وہ جلسوں، مظاہروں اور لانگ مارچ کے ذریعے اپنے مطالبات سامنے لاتی ہیں. اس حق کا احترام حکومت، انتظامیہ اور معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے. لیکن کسی بھی جمہوری حق کے استعمال کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے. احتجاج کرنے والی قیادت پر لازم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو پْرامن رکھے، عوامی املاک کی حفاظت کرے، ایمبولینسوں اور ہنگامی خدمات کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دے اور شہریوں کی روز مرہ زندگی کو حتی الامکان متاثر ہونے سے بچائے. اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانونی دائرے میں رہتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو تحفظ دے اور ان کے مطالبات سننے کے لیے مؤثر راستے کھلے رکھے. احتجاج کو دبانے کی ہر کوشش مسائل کو پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ احتجاج کے نام پر عام شہریوں کے بنیادی حقوق کو نظرانداز کرنا بھی قابلِ قبول نہیں. جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ اختلافِ رائے کے باوجود قانون، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے. سب سے بڑی قیمت عام آدمی کیوں ادا کرتی ہے. پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی بڑے پیمانے پر احتجاج، دھرنے یا سڑکوں کی بندش ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف سیاسی قیادت یا حکومتی ایوانوں تک محدود نہیں رہتے. ان کا بوجھ اکثر ان لوگوں پر پڑتا ہے جن کا نہ اقتدار کی سیاست سے کوئی براہِ راست تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ سیاسی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں. ایک دیہاڑی دار مزدور صبح گھر سے نکلتا ہے تو اس کی امید ہوتی ہے کہ شام کو بچوں کے لیے راشن اور گھر کا خرچ لے کر واپس آئے گا. اگر راستے بند ہوں، ٹرانسپورٹ معطل ہو یا کام کی جگہ تک پہنچنا ممکن ہی نہ رہے تو اس کی ایک دن کی آمدن ختم ہو جاتی ہے. اس کے لیے یہ محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ گھر کے چولہے کا مسئلہ ہے. چھوٹے دکاندار، ہوٹل مالکان، ورکشاپ چلانے والے، رکشہ ڈرائیور، ٹرانسپورٹرز اور روزانہ کی بنیاد پر کاروبار کرنے والے افراد بھی متاثر ہوتے ہیں. ان کے اخراجات جاری رہتے ہیں، مگر آمدن رک جاتی ہے. چھوٹے کاروبار پہلے ہی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوں تو مسلسل غیر یقینی صورتِ حال ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے اسی طرح طلبہ کو تعلیمی اداروں تک رسائی، مریضوں کو ہسپتال پہنچنے اور ملازمین کو دفاتر تک جانے میں دشواری پیش آتی ہے. کسی ہنگامی صورتِ حال میں راستے کی بندش جان و صحت کے لیے سنگین خطرہ بن جاتی ہے. سوال یہ ہے کہ سیاسی مطالبات منوانے کی جدوجہد میں ان لوگوں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ کیا سیاسی جماعتیں اپنے احتجاج کے بعد متاثرہ کاروبار، مزدوروں اور شہریوں کے مسائل کا جائزہ لیتی ہیں؟ کیا ان کے پاس ایسا منصوبہ ہوتا ہے جس سے سیاسی سرگرمی بھی جاری رہے اور عام شہریوں کی زندگی بھی کم سے کم متاثر ہو. یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہر سیاسی جماعت کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنانے چاہییں. معیشت اور سرمایہ کاری پر اثرات
پاکستان کی معیشت کو استحکام، مسلسل پالیسیوں، کاروباری اعتماد اور روزگار کے مواقع کی ضرورت ہے. سیاسی بے یقینی جب طویل ہو جائے تو کاروباری فیصلے مؤخر ہو سکتے ہیں، سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور مارکیٹ میں غیر یقینی بڑھ سکتی ہے. تاہم ہر احتجاج کے معاشی اثرات یکساں نہیں ہوتے؛ ان کا انحصار احتجاج کے دورانیے، جغرافیائی وسعت، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور مجموعی معاشی حالات پر ہوتا ہے. حکومت اگر سیاسی اختلافات کا جواب صرف انتظامی اقدامات سے دینے کی کوشش کرے اور مذاکرات کے راستے محدود ہو جائیں تو صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے. دوسری طرف اگر سیاسی جماعتیں ہر اختلاف کا حل سڑکوں پر تلاش کریں اور قابلِ عمل مذاکراتی راستے اختیار نہ کریں تو حکومتی نظام اور معاشی سرگرمیوں کے لیے غیر یقینی میں اضافہ ہو جاتا ہے. ملک کو ایسے سیاسی ماحول کی ضرورت ہے جہاں اختلافِ رائے کو ریاستی بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جائے. سیاسی جماعتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ معیشت صرف اعداد و شمار کا نام نہیں؛ اس کا تعلق مزدور کی اجرت، دکاندار کے کاروبار، کسان کی آمدن، نوجوان کی تعلیم ملازم کی ملازمت سے بھی ہے. مذاکرات کی میز کیوں ضروری ہے؟ لانگ مارچ کے دوران سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سیاسی قیادت اپنے مطالبات کے حصول کے لیے مذاکرات کو کتنی اہمیت دیتی ہے. احتجاج توجہ حاصل کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے، مگر دیرپا سیاسی حل عموماً واضح مطالبات، سنجیدہ مکالمے اور قابلِ عمل معاہدوں سے نکلتے ہیں. مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی فریق اپنے اصولوں سے دستبردار ہو جائے. اس کا مطلب یہ ہے کہ اختلافات کو ایسے طریقے سے حل کیا جائے جس میں قانون، آئینی تقاضوں اور عوامی مفاد کو مرکزی حیثیت حاصل ہو. حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی مخالفین کے جائز مطالبات سننے کے لیے با اختیار مذاکراتی ٹیم تشکیل دے. احتجاج کرنے والی جماعتوں کو بھی اپنے مطالبات واضح، قابلِ فہم اور قابلِ عمل انداز میں پیش کرنے چاہییں. مذاکرات کے لیے وقت، طریقہ کار اور پیش رفت کا شفاف نظام بنانا چاہئے تاکہ عوام کو معلوم ہو کہ بات چیت کس مرحلے پر ہے اور کون سا مسئلہ زیرِ بحث ہے. اگر کسی معاملے کا حل پارلیمان میں موجود ہو تو اسے پارلیمانی عمل کے ذریعے آگے بڑھایا جائے. اگر معاملہ آئینی تشریح کا ہو تو متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز سے رجوع کیا جائے. اور اگر کسی مطالبے کا تعلق عوامی فلاح سے ہو تو اس پر سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کام کیا جائے. سیاسی کامیابی صرف اس بات میں نہیں کہ مخالف فریق کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا جائے،
بلکہ اس میں بھی ہے کہ اختلاف کے باوجود ایسا حل نکالا جائے جس سے ملک اور عوام کو فائدہ پہنچے. نوجوان نسل کس مستقبل کی منتظر ہے؟ کیا پاکستان کی نوجوان نسل سیاسی نعروں سے زیادہ عملی نتائج دیکھنا چاہتی ہے؟ اسے معیاری تعلیم، روزگار، کاروبار کے مواقع، میرٹ، انصاف اور ایسا ماحول درکار ہے جہاں اسے اپنے مستقبل کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے کا موقع ملے. اگر نوجوانوں کو مسلسل سیاسی محاذ آرائی، الزام تراشی اور تصادم کی خبریں ہی دکھائی دیں تو ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان کے بنیادی مسائل کس سیاسی ترجیح کا حصہ ہیں. اس کے برعکس اگر سیاسی جماعتیں اپنی توانائی تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی، روزگار اور ادارہ جاتی اصلاحات پر بھی صرف کریں تو نوجوان سیاست کو اپنی زندگی سے متعلق ایک بامعنی عمل کے طور پر دیکھ سکتے ہیں. لانگ مارچ کرنے والی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی منشور میں نوجوانوں کے لیے قابلِ پیمائش اہداف پیش کرے. حکومت بھی روزگار، تعلیمی مواقع اور معاشی بہتری کے لیے اپنے اقدامات کے نتائج عوام کے سامنے رکھے. نوجوانوں کو سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کا حق حاصل ہے، مگر ان کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال اس وقت ہوگا جب سیاسی جدوجہد کے ساتھ قومی تعمیر کا واضح پروگرام بھی موجود ہو. کیا لانگ مارچ عوام کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے؟ اس سوال کا جواب کسی ایک سیاسی جماعت یا احتجاج کے بارے میں عمومی فیصلہ دے کر نہیں دیا جا سکتا. لانگ مارچ بعض حالات میں ایسے مسائل کو قومی توجہ کا مرکز بنا دیتا ہے جنہیں نظرانداز کیا جا رہا ہو. پْرامن عوامی دباؤ حکومت کو جواب دہ بنانے اور سیاسی مذاکرات کا راستہ کھولنے میں کردار ادا کر سکتا ہے. لیکن احتجاج بذاتِ خود معاشی پالیسی، نظامِ تعلیم، صحت عامہ، عدالتی اصلاحات یا روزگار کے مسائل کا متبادل نہیں. ان شعبوں میں بہتری کے لیے قانون سازی، ادارہ جاتی صلاحیت، وسائل کا مؤثر استعمال، شفاف نگرانی اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے. اگر کسی تحریک کا اختتام صرف سیاسی قوت کے مظاہرے پر ہو اور اس کے بعد عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی واضح لائح? عمل سامنے نہ آئے تو عام آدمی کے لیے اس کے فوائد محدود رہ سکتے ہیں. اسی لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے احتجاج کے مطالبات کے ساتھ یہ بھی واضح کریں کہ کامیابی کی صورت میں عوام کی زندگی میں کون سی عملی تبدیلی آئے گی. مستقبل کے لیے چند عملی تجاویز
پاکستان کو سیاسی احتجاج اور عوامی زندگی کے درمیان توازن پیدا کرنے کے لیے چند بنیادی اقدامات کی ضرورت ہے. حکومت اور سیاسی جماعتیں احتجاج سے پہلے اور اس کے دوران مذاکرات کے لیے رابطے کے مؤثر ذرائع قائم رکھیں. کسی بھی تنازع کو غیر ضروری طور پر بڑھنے سے روکنا تمام فریقوں کے مفاد میں ہے. اسکے ساتھ ساتھ انتظامیہ احتجاج کے حق اور شہریوں کی نقل و حرکت، دونوں کے تحفظ کے لیے متبادل راستوں، ٹریفک کے انتظام اور ہنگامی خدمات کا واضح منصوبہ تیار کرے. ایمبولینسوں، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت کو ہر صورت ترجیح دی جائے. احتجاج کرنے والی جماعتیں اپنے کارکنوں کو پْرامن رہنے کی ہدایات دیں اور عوامی املاک یا شہریوں کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے اجتناب کریں. سیاسی مطالبات کو واضح تحریری شکل میں پیش کیا جائے، تاکہ ان پر سنجیدہ بحث اور مذاکرات ممکن ہوں. مطالبات کی پیش رفت سے عوام کو باقاعدگی سے آگاہ کیا جائے. حکومت اور اپوزیشن دونوں عوامی مسائل پر مشترکہ قومی ترجیحات مرتب کریں. تعلیم، صحت، روزگار، توانائی، مہنگائی اور غربت جیسے معاملات کو سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے. سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں اور عوام کے سامنے جواب دہی کا نظام مضبوط کریں. احتجاج کے نتائج، حاصل ہونے والی پیش رفت
اور عوام کو پہنچنے والے ممکنہ نقصانات کا دیانت داری سے جائزہ لیا جائے. پاکستانی عوام کا مستقبل کس کے ہاتھ میں ہے؟
پاکستان کا مستقبل کسی ایک لانگ مارچ، کسی ایک حکومت، کسی ایک سیاسی جماعت یا کسی ایک احتجاج سے مکمل طور پر متعین نہیں ہوتا. اس کا انحصار مسلسل سیاسی فیصلوں، معاشی پالیسیوں، اداروں کی کارکردگی، شہریوں کے حقوق اور ریاستی و سیاسی قیادت کی ذمہ داری پر ہے. عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کریں. حکومت کو یہ ذمہ داری حاصل ہے کہ وہ تنقید سنے، قانون کے مطابق عمل کرے اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے. سیاسی جماعتوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ان کی اصل قوت صرف جلسوں میں جمع ہونے والے ہجوم سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد اور عملی کارکردگی سے بھی پیدا ہوتی ہے. پاکستانی عوام اب ایسے سیاسی طرزِ عمل کی متقاضی ہیں جس میں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو، احتجاج ہو مگر عام شہری کے حقوق پامال نہ ہوں، مذاکرات ہوں مگر عوامی مسائل کو فراموش نہ کیا جائے، اور اقتدار کی جدوجہد کے ساتھ قومی تعمیر کا عزم بھی موجود ہو. لانگ مارچ کا اصل امتحان یہی ہے کہ اس کے ذریعے عوام کے مسائل کے حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے یا سیاسی کشمکش مزید طویل ہو جاتی ہے۔ اگر تمام فریق اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ قومی مفاد کو بھی سامنے رکھیں تو اختلافات کو مکالمے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے. لیکن اگر سیاست کا مرکز صرف اقتدار، دباؤ اور جوابی دباؤ رہے تو عام آدمی کے بنیادی سوالات پس منظر میں چلے جانے کا خدشہ برقرار رہے گا. آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ لانگ مارچ کامیاب ہوگا یا ناکام؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے بعد پاکستانی عوام کی زندگی میں کیا بدلے گا؟ کیا مزدور کی آمدن بڑھے گی؟ کیا نوجوان کو روزگار ملے گا؟ کیا ہسپتالوں میں علاج بہتر ہوگا؟ کیا بچوں کو معیاری تعلیم میسر آئے گی؟ کیا کاروباری طبقہ اطمینان کے ساتھ کام کر سکے گا؟ اور کیا عام شہری اپنے مستقبل کے بارے میں بہتر امیدیں وابستہ کر سکے گا؟ ان سوالات کے جواب نعروں سے نہیں، پالیسیوں، اقدامات اور نتائج سے ملیں گے. پاکستانی عوام کا مستقبل اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب سیاست کا مقصد صرف اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عوام کی زندگی میں حقیقی بہتری لانا بن جائے. یہی وہ معیار ہے جس پر ہر لانگ مارچ، ہر حکومت اور ہر سیاسی قیادت کو پرکھا جانا چاہیے