ملک محمد اسحاق
ریاست اور شہری کے درمیان سب سے قیمتی معاہدہ کاغذ پر نہیں، اعتماد پر لکھا جاتا ہے۔ شہری قانون کی پابندی کرتا ہے اور ریاست کو اختیار دیتا ہے، اس یقین کے ساتھ کہ وہ اس کی جان، عزت، آزادی اور وقار کی محافظ ہوگی۔ اسی اعتماد کی عملی علامت پولیس اور تھانہ ہیں۔ مصیبت میں گھری ایک بیٹی جب تھانے کا دروازہ کھٹکھٹائے تو اس کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ خوف کی حدود سے نکل کر تحفظ کی حدود میں داخل ہو رہی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر محافظ ہی خوف کا سبب بن جائے تو شہری کہاں جائے؟ اگر تھانہ بھی بیٹی کی عزت اور زیرِ حراست انسان کی جان کی ضمانت نہ دے سکے تو ریاستی تحفظ کے تصور کا کیا باقی رہ جاتا ہے؟
لاہور کے دو حالیہ واقعات نے ہمارے اجتماعی ضمیر کے سامنے یہی تلخ سوال رکھ دیا ہے۔
تھانہ غازی آباد میں ایک ذہنی طور پر کمزور نوجوان خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا واقعہ انتہائی سنگین ہے۔ پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر پر الزام عائد ہوا، مقدمہ درج ہوا، ملزم گرفتار ہوا اور بعد ازاں ناقص نگرانی اور انتظامی ذمہ داری کے سوال پر تھانے کے تمام 78 اہلکار معطل کر دیے گئے۔ معاملہ زیرِ تفتیش ہے، اس لیے قانونی اور صحافتی دیانت کا تقاضا ہے کہ الزام کو اس وقت تک الزام ہی لکھا جائے جب تک عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ نہ کر دے۔
لیکن اس قانونی احتیاط کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ریاست سے سوال نہ پوچھا جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ذہنی طور پر کمزور نوجوان خاتون پولیس اسٹیشن تک کیسے پہنچی؟ اس کی حفاظت کے لیے مقرر قانونی اور انتظامی ضابطے کہاں تھے؟ خاتون پولیس اہلکار کی موجودگی کیوں یقینی نہ بنائی گئی؟ نگرانی کا پورا نظام کہاں تھا؟
یہ محض ایک ASI کا سوال نہیں؛ یہ پورے نظامِ نگرانی اور جوابدہی کا سوال ہے۔
اسی لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ میں دو نوجوان خواتین، انمول اور آمنہ، کی زیرِ حراست موت نے تشویش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ اب تک سامنے آنے والے پوسٹ مارٹم نتائج میں جسمانی تشدد کے آثار رپورٹ نہیں ہوئے، جبکہ حتمی وجہ? موت کے تعین کے لیے مزید فارنزک اور ہسٹوپیتھالوجی نتائج اہم ہیں۔ اس لیے کسی غیر ثابت شدہ نتیجے تک پہنچنا نہ انصاف ہوگا، نہ ذمہ دار صحافت۔
مگر یہاں بھی بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: دو زندگیاں ریاستی تحویل میں ختم ہوئی ہیں۔
جب کوئی شخص ریاست کی تحویل میں آتا ہے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری کم نہیں، بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ٹاؤن شپ واقعے کے ہر پہلو کی غیر جانب دارانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہوں، طبی و فارنزک شواہد محفوظ کیے جائیں اور حقیقت خواہ کسی کے حق میں ہو یا خلاف، مکمل طور پر سامنے آئے۔
حراست سزا نہیں، ریاست کے پاس ایک انسانی جان کی امانت ہے۔
یہ ایک جملہ اگر ہماری پولیسنگ کے فلسفے کا حصہ بن جائے تو شاید بہت کچھ بدل سکتا ہے۔
پولیس کا اختیار گرفتاری، تفتیش، ثبوت اکٹھا کرنے اور ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرنے تک ہے۔ جرم ثابت کرنا استغاثہ اور سزا سنانا عدالت کا کام ہے۔ تھانہ نہ عدالت ہے، نہ عقوبت خانہ اور نہ کسی انسان کی زندگی اور موت کا فیصلہ کرنے کی جگہ۔
ہمارا آئین بھی اسی بنیادی فلسفے کی حفاظت کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی اور آزادی، آرٹیکل 10-A منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریق? کار، جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کی حرمت کو تحفظ دیتا ہے۔
یہ آئینی دفعات کتابوں کی زینت نہیں بلکہ ریاستی طاقت کی حدود ہیں۔
کوئی شخص، کوئی بااثر شخصیت، کوئی ہجوم، کوئی پولیس افسر اور کوئی قانون نافذ کرنے والا ادارہ بیک وقت تفتیش کار، استغاثہ، منصف اور جلاد نہیں بن سکتا۔
جس دن ہم یہ اصول کھو دیں گے، اسی دن قانون کی حکمرانی اور طاقت کی حکمرانی کے درمیان حد مٹ جائے گی۔
یہاں پنجاب کی مسلم لیگ (ن) حکومت سے میری تنقید بالکل واضح ہے۔
لاہور کوئی دور افتادہ ضلع نہیں۔ یہ پنجاب کا دارالحکومت ہے؛ وزیراعلیٰ، صوبائی حکومت، محکمہ داخلہ اور پولیس کی اعلیٰ قیادت کا مرکز ہے۔ اگر صوبائی دارالحکومت کے تھانوں سے خواتین کی عزت، شہریوں کی حفاظت اور زیرِ حراست جانوں کے بارے میں ایسے سنگین سوالات اٹھ رہے ہوں تو اسے محض چند اہلکاروں کی معطلی، تبادلے یا پریس ریلیز سے بند نہیں کیا جا سکتا۔
معطلی کارروائی کا آغاز ہو سکتی ہے، انصاف کا اختتام نہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ اسی لیے ان سے یہ توقع اور بھی زیادہ ہونی چاہیے کہ خواتین کی جان، عزت اور وقار ان کی حکومت کے لیے محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ناقابلِ عبور سرخ لکیر ہوگا۔
اگر ایک کمزور اور بے بس بیٹی بھی سرکاری تحویل میں خود کو محفوظ نہ سمجھے تو خواتین کے تحفظ کے بڑے بڑے دعوے اپنی اخلاقی قوت کھونے لگتے ہیں۔
تاہم انصاف کا تقاضا دونوں طرف یکساں ہے۔ اگر کسی پولیس اہلکار پر الزام ہے تو اسے بھی منصفانہ ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ اگر کسی زیرِ حراست موت پر سوالات ہیں تو اس کا فیصلہ جذبات، سیاسی بیانات یا سوشل میڈیا نہیں بلکہ فارنزک شواہد، آزاد تحقیقات اور عدالت کرے۔
مظلوم کے لیے انصاف مانگتے ہوئے ملزم سے انصاف چھین لینا بھی انصاف نہیں۔
یہی اصول پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ، یعنی CCD، کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
میں منظم جرائم، قاتلوں، بھتہ خوروں اور خطرناک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف ریاست کی بھرپور قانونی قوت کے استعمال کا حامی ہوں۔ شہری کو مجرم کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا بھی اتنی ہی بڑی ریاستی ناکامی ہے۔ لیکن جرائم کے خلاف جنگ کسی ادارے کو آئین سے بالاتر ہونے کا اختیار نہیں دیتی۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے فروری 2026 میں اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں، پریس رپورٹس کی بنیاد پر، 2025 کے آٹھ ماہ کے دوران CCD کے کم از کم 670 پولیس مقابلوں میں 924 مشتبہ افراد کی ہلاکتوں کا ذکر کیا اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات اور آزاد نگرانی کا مطالبہ کیا۔
یہ HRCP کے نتائج اور الزامات ہیں؛ متعلقہ ادارے کو اپنا مؤقف اور شواہد پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن اعداد کی سنگینی ایسی ہے کہ ان سوالات کا شفاف جواب بھی ضروری ہے۔
کوئی مہذب ریاست پولیس کو کمزور نہیں کرتی، لیکن کوئی آئینی ریاست پولیس کو بے لگام بھی نہیں چھوڑتی۔
گولی عدالتی فیصلے کا متبادل نہیں۔
پولیس مقابلہ منصفانہ ٹرائل کا قائم مقام نہیں۔
ریاستی طاقت آئین سے بڑی نہیں۔
اگر آج ہم یہ اصول تسلیم کر لیں کہ کسی مبینہ مجرم کو عدالت تک پہنچانا ضروری نہیں تو کل یہی اختیار کسی بے گناہ، کمزور، سیاسی مخالف یا ایسے شخص کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے جس کے پاس اپنی آواز بلند کرنے کی طاقت ہی نہ ہو۔
اصل مسئلہ پولیس بمقابلہ عوام نہیں۔ ہمیں پولیس کی ضرورت ہے، اور ایک مضبوط، تربیت یافتہ اور باوقار پولیس کی ضرورت ہے۔ ہزاروں پولیس اہلکار روزانہ خطرات کے درمیان فرائض انجام دیتے اور شہریوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ چند افراد کے مبینہ جرائم کو پوری فورس سے منسوب کرنا ان دیانت دار اہلکاروں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی۔
لیکن انہی اچھے پولیس اہلکاروں کے وقار کی حفاظت کے لیے ضروری ہے کہ وردی کسی قانون شکن کے لیے ڈھال نہ بن سکے۔
ہمیں پولیس مخالف بیانیہ نہیں، جوابدہ پولیسنگ چاہیے۔
اس کے لیے پولیس اسٹیشنوں میں خواتین اور ذہنی یا جسمانی طور پر کمزور افراد کے لیے واضح اور قابلِ نفاذ حفاظتی ضابطے ضروری ہیں۔ کسی خاتون کی حراست یا تفتیش کے دوران خاتون پولیس اہلکار کی موجودگی یقینی بنائی جائے۔ CCTV ریکارڈ محفوظ اور آزادانہ جانچ کے قابل ہو۔ روزنامچہ، گرفتاری کا وقت، طبی معائنہ، تفتیش اور حوالگی کا ریکارڈ ڈیجیٹل اور ناقابلِ تحریف بنایا جائے۔
اگر کوئی شخص ریاستی تحویل میں فوت ہو جائے تو آزاد تحقیقات کسی خاندان کی درخواست کی محتاج نہیں ہونی چاہئیں؛ ایک واضح قانونی طریق? کار کے تحت خودکار طور پر شروع ہونی چاہئیں۔
اور احتساب صرف کانسٹیبل یا ASI پر ختم نہیں ہونا چاہیے۔
اختیار اگر اوپر تک جاتا ہے تو جوابدہی بھی اوپر تک جانی چاہیے۔
اگر نگرانی ناکام ہوئی، اگر قواعد پر عمل نہ ہوا، اگر ریکارڈ چھپایا گیا یا کسی ذمہ دار کو بچانے کی کوشش ہوئی تو چین آف کمانڈ کا جائزہ بھی ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت کی اصل آزمائش شروع ہوتی ہے۔
پنجاب حکومت نظام کا محض دفاع نہ کرے، اسے درست کرے۔
صرف اہلکار معطل نہ کرے، ذمہ داری متعین کرے۔
صرف وضاحت نہ دے، حقائق سامنے لائے۔
صرف طاقتور پولیس نہ بنائے، قانون کی پابند، پیشہ ور اور قابلِ اعتماد پولیس بنائے۔
ریاست اپنی غلطی تسلیم کرنے سے کمزور نہیں ہوتی۔
ریاست غلطی چھپانے سے کمزور ہوتی ہے، جبکہ احتساب اسے مضبوط کرتا ہے۔
آخر میں سوال صرف غازی آباد یا ٹاؤن شپ کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں کے لیے کیسا پاکستان چھوڑنا چاہتے ہیں؟
ایسا پاکستان جہاں ایک خاتون پولیس اسٹیشن کے دروازے پر پہنچ کر مزید خوفزدہ ہو جائے؟
یا ایسا پاکستان جہاں وہ اس دروازے کو دیکھ کر یقین سے کہہ سکے:
’’اب میں ریاست کی حفاظت میں ہوں۔‘‘
ہمیں ایسی پولیس چاہیے جس سے مجرم قانون کی یقینی گرفت کے باعث خوفزدہ ہو، مگر جسے دیکھ کر عام شہری اور ہماری بیٹیاں خود کو محفوظ سمجھیں۔
ہمیں ایسا نظام چاہیے جس میں مظلوم کو انصاف ملے اور ملزم کو منصفانہ ٹرائل۔
ہمیں ایسے ادارے چاہئیں جو طاقتور ضرور ہوں، مگر قانون سے زیادہ طاقتور نہ ہوں۔
ہر جان قیمتی ہے۔ ہر عورت کا وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ ہر ملزم قانونی طریق? کار کا حق دار ہے اور ہر ریاستی ادارہ عوام اور قانون کے سامنے جواب دہ ہے۔
اگر ہم اپنی بیٹیوں کی عزت، زیرِ حراست انسان کی جان اور عدالت کے اختیار کے لیے بھی آواز بلند نہیں کریں گے تو ہمارے اجتماعی ضمیر کا امتحان آخر کہاں ہوگا؟
پاکستان کو جنگل کا قانون نہیں، قانون کی حکمرانی چاہیے۔
اور یاد رکھیے:
تھانہ خوف کی آخری منزل نہیں، انصاف کی پہلی دہلیز ہونا چاہیے۔
کالم نگار