27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر، مگر اثرات؟

طلعت بٹ
کبھی کبھی ایک سیاسی فیصلہ سڑکوں پر آنے سے پہلے ہی پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے. 27 ستمبر کا لانگ مارچ بھی کچھ ایسی ہی صورتحال کا نام بن چکا ہے. تاریخ آگے بڑھ گئی، مارچ مؤخر ہوگیا، لیکن اس کے سائے ابھی ختم نہیں ہوئے. 25 ستمبر کو پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف جانے والے لانگ مارچ کو مؤخر کرتے ہوئے نئی تاریخ 4 اکتوبر مقرر کر دی، اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مطابق مارچ اب پشاور سے شروع ہوگا. لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف تاریخ بدلنے سے سیاسی، معاشی اور سماجی اثرات بھی ختم ہو جاتے ہیں؟شاید نہیں! گزشتہ کئی دنوں سے ملک کا سیاسی ماحول اس مارچ کے گرد گھوم رہا تھا. حکومت نے سکیورٹی انتظامات کیے، مختلف علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی گئی، راستوں اور شاہراہوں کے حوالے سے اقدامات کیے گئے اور وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی تھی. یعنی مارچ ابھی ہوا بھی نہیں تھا، مگر اس کی تیاری نے ریاستی وسائل، انتظامیہ، پولیس، ٹریفک اور عام شہری کی زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا. یہی وہ پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے. سیاسی احتجاج جمہوری معاشرے کا حصہ ہے. حکومت سے اختلاف، اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا، احتجاج کرنا اور سیاسی دباؤ پیدا کرنا شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے. لیکن اس حق کے ساتھ ذمہ داری بھی جڑی ہوتی ہے. احتجاج اگر پْرامن ہو، قانون کے دائرے میں ہو اور عام شہری کی زندگی کو کم سے کم متاثر کرے تو جمہوری عمل مضبوط ہوتا ہے لیکن اگر احتجاج کے نتیجے میں سڑکیں بند، کاروبار بند، اور مریض اسپتال نہ پہنچ سکیں، طلبہ امتحانات سے محروم ہوں اور مزدور کی دیہاڑی ختم ہو جائے تو سوالات ضرور پیدا ہوتے ہیں. سب سے پہلے اس غریب مزدور کا ذکر ہونا چاہیے جس کی آواز سیاسی شور میں ہمیشہ دب جاتی ہے. اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ اور جی ٹی روڈ کے اطراف ہزاروں ایسے لوگ روزانہ کام کرتے ہیں جن کی آمدنی ان کے روزانہ کام سے وابستہ ہے. کوئی ہوٹل میں کام کرتا ہے، کوئی ورکشاپ میں، کوئی رکشہ چلاتا ہے، کوئی ریڑھی لگاتا ہے اور کوئی چھوٹی سی دکان پر روزگار حاصل کرتا ہے. اس شخص کے لیے ایک دن کا سیاسی احتجاج صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں ہوتا. یہ ایک دن کی کمائی کا خاتمہ بھی ہو سکتا ہے. بڑے سیاسی رہنما سیاسی سرگرمی کے بعد اپنے گھروں یا محفوظ مقامات پر واپس چلے جاتے ہیں، مگر دیہاڑی دار مزدور کے پاس ایسا کوئی متبادل نہیں ہوتا. اس کے گھر میں بچے اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ شام کو والد کچھ کما کر واپس آئے گا. اگر سڑکیں بند ہوں، بازار بند ہوں یا کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں تو اس نقصان کا براہِ راست اثر اسی غریب گھرانے پر پڑتا ہے. اس لیے 4 اکتوبر کی نئی تاریخ کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی پیدا ہوتی ہے کہ احتجاج کے دوران عام آدمی کے روزگار کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے. تعلیم بھی ایک حساس مسئلہ ہے.سیاسی کشمکش کے دوران اگر اسکول، کالج یا یونیورسٹیاں متاثر ہوں تو اس کا نقصان صرف ایک دن کا نہیں ہوتا. طلبہ کا تعلیمی شیڈول متاثر ہوتا ہے، امتحانات ملتوی ہو سکتے ہیں، والدین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تعلیمی نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے. پاکستان جیسے ملک میں جہاں پہلے ہی تعلیمی مشکلات موجود ہیں، وہاں سیاسی سرگرمیوں کا بوجھ طلبہ پر ڈالنا دانش مندی نہیں. صحت کا شعبہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے. ایک مریض کے لیے راستہ بند ہونا محض ٹریفک کا مسئلہ نہیں. کسی شخص کو دل کا دورہ پڑ سکتا ہے، کسی بچے کو فوری طبی امداد درکار ہو سکتی ہے، کسی حاملہ خاتون کو اسپتال پہنچانا ضروری ہو سکتا ہے. ایمبولینس اگر سیاسی رکاوٹ میں پھنس جائے تو چند منٹ بھی انتہائی اہم ہو سکتے ہیں. لہٰذا 4 اکتوبر کے احتجاج کے دوران ایک بات پر تمام سیاسی قوتوں کو متفق ہونا چاہیے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ، ڈاکٹرز، مریضوں اور ہنگامی خدمات کے راستے کسی صورت بند نہیں ہونے چاہییں. یہ سیاست کا نہیں، انسانیت کا مسئلہ ہے. دوسرا بڑا اثر ریاست اور عوام کے درمیان ممکنہ تصادم کا ہے. گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ انتظامیہ نے احتجاج کے ممکنہ اثرات کو سنجیدگی سے لیا. اسلام آباد اور پنجاب کے بعض علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی گئی، جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات بھی بڑھائے گئے. ایسی صورتحال میں اصل امتحان صرف مظاہرین کا نہیں بلکہ انتظامیہ کا بھی ہوتا ہے. مظاہرین اگر پْرامن رہیں، قانون کی پابندی کریں اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچائیں تو تصادم کے امکانات کم کیے جا سکتے ہیں. دوسری طرف ریاستی اداروں کو بھی تحمل، تناسب اور قانونی طریقہ کار کو ترجیح دینی چاہیے. کیونکہ لاٹھی، آنسو گیس، گرفتاری اور تصادم کی تصاویر چند گھنٹوں میں پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہیں، لیکن ان کے سیاسی اور سماجی اثرات بہت دیر تک رہ سکتے ہیں. یہاں ایک اور اہم سوال پیدا ہوتا ہے. 27 ستمبر کا مارچ مؤخر کیوں ہوا؟ اس بارے میں مختلف سیاسی اور حکومتی بیانات موجود ہیں، اس لیے کسی ایک وجہ کو حتمی قرار دینا مناسب نہیں. تاہم یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی کوششیں جاری تھیں. چند روز قبل حکومتی اور اپوزیشن شخصیات کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں. یہ پہلو امید کی ایک کھڑکی ضرور کھولتا ہے۔
کیونکہ اگر سیاسی مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہونے کی گنجائش رکھتا ہے تو سڑک پر تصادم کے مقابلے میں مذاکرات کی میز زیادہ محفوظ راستہ ہو سکتی ہے. مذاکرات میں اختلاف باقی رہ سکتا ہے، مطالبات سخت ہو سکتے ہیں اور فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم رہ سکتے ہیں، لیکن کم از کم سیاسی اختلاف کو انسانی تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے. یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے ماضی کے بیانات میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے اور مارچ کو پْرامن رکھنے کی بات کی ہے. لہٰذا 27 ستمبر کا مؤخر ہونا اگر مذاکرات کے لیے وقت پیدا کرتا ہے تو اس دوران سیاسی قوتوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے. معیشت کے لیے بھی یہی بہتر ہے. احتجاج کے معاشی نقصانات کے بارے میں اکثر اربوں روپے کے اعداد و شمار بیان کیے جاتے ہیں، لیکن ہر ایسے دعوے کو مستند معاشی تحقیق کے بغیر حتمی حقیقت سمجھنا درست نہیں. البتہ یہ بات بدیہی ہے کہ سڑکوں کی بندش، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ، ٹرانسپورٹ کے مسائل اور سپلائی چین میں تعطل معاشی سرگرمی کو متاثر کر سکتے ہیں. چھوٹا کاروبار پہلے متاثر ہوتا ہے. ایک دکان بند ہوتی ہے تو صرف دکاندار نہیں، اس کے ملازمین، سپلائر، ٹرانسپورٹر اور گاہک بھی متاثر ہوتے ہیں. ایک ورکشاپ بند ہوتی ہے تو مکینک کی دیہاڑی رکتی ہے. ایک ہوٹل بند ہوتا ہے تو ویٹر، باورچی اور دیگر ملازمین کی آمدنی متاثر ہوتی ہے. یہی وجہ ہے کہ کسی بھی بڑے سیاسی احتجاج کی کامیابی کو صرف سیاسی نعروں یا شرکا کی تعداد سے نہیں ناپا جانا چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کے دوران عام شہری نے کتنی مشکلات برداشت کیں. اور پھر آتا ہے سب سے اہم سوال 27 ستمبر لانگ مارچ مؤخر تو ہوگیا، لیکن کیا 4 اکتوبر تک سیاسی درجہ حرارت کم ہوگا یا مزید بڑھے گا؟ اس کا جواب کسی ایک فریق کے پاس نہیں۔ یہ آنے والے دنوں کی سیاسی حکمت عملی، حکومت کے رویے، اپوزیشن کے فیصلوں، مذاکرات اور زمینی حالات پر منحصر ہوگا. لیکن ایک بات واضح ہے. تاریخ بدلنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوا. صرف وقت آگے بڑھا ہے. اب حکومت کے پاس بھی ایک موقع ہے کہ سیاسی رابطے بڑھائے، اپوزیشن کے تحفظات سنے اور قانونی و آئینی راستوں کو مضبوط کرے. دوسری طرف احتجاج کی قیادت کرنے والوں کے پاس بھی موقع ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو واضح ہدایات دیں کہ احتجاج پْرامن رہے، املاک کو نقصان نہ پہنچے، عام شہریوں کے راستے بلاوجہ بند نہ کیے جائیں اور ہنگامی خدمات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو. سیاسی اختلاف جمہوریت کو کمزور نہیں کرتا؛ سیاسی اختلاف کا تشدد میں تبدیل ہونا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے. پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ہے. حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، مگر ملک اور عوام اپنی جگہ موجود رہتے ہیں. وہ مزدور کل بھی کام پر جائے گا. وہ طالب علم کل بھی امتحان دے گا. وہ مریض کل بھی اسپتال جائے گا. اور یہ ملک کل بھی ہمیں ہی چلانا ہوگا. اس لیے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کا مؤخر ہونا محض ایک سیاسی تاریخ کی تبدیلی نہیں ہونا چاہیے. اسے ایک موقع سمجھا جانا چاہیے. مذاکرات کا موقع، سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کا موقع، عام شہری کو مشکلات سے بچانے کا موقع اور یہ ثابت کرنے کا موقع کہ پاکستان میں سیاسی اختلاف کے باوجود بات چیت ممکن ہے. 4 اکتوبر اگر نئی تاریخ ہے تو اس سے پہلے آنے والے دن اصل امتحان ہیں. کیا مذاکرات کا دروازہ کھلے گا؟کیا سیاسی قیادت تحمل کا مظاہرہ کرے گی؟ کیا حکومت شہری آزادیوں اور قانون دونوں میں توازن قائم کرے گی؟ کیا احتجاج کرنے والے عام شہری کے حقوق کا خیال رکھیں گے؟ اور کیا ایک ایسا راستہ نکالا جا سکتا ہے جس میں سیاسی آواز بھی بلند ہو اور ملک کی سڑکیں، بازار، اسکول، اسپتال اور معیشت بھی معمول کے مطابق چلتی رہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب آنے والے دن دیں گے. 27 ستمبر گزر جائے گا، 4 اکتوبر بھی گزر جائے گا، سیاسی نعرے بھی وقت کے ساتھ مدھم پڑ جائیں گے؛ لیکن عام آدمی کے زخم، معیشت کا نقصان اور معاشرے میں پیدا ہونے والی تلخی اگر بڑھ گئی تو انہیں بھرنے میں بہت وقت لگ سکتا ہے. اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ اختلاف رہے، احتجاج رہے، سیاسی vجدوجہد بھی جاری رہے، مگر مذاکرات کا دروازہ کبھی بند نہ ہو. کیونکہ آخرکار سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، عوام کے لیے ایک ایسا پاکستان بنانا بھی ہے جہاں مزدور کی دیہاڑی محفوظ ہو، طالب علم کا مستقبل محفوظ ہو، مریض کی زندگی محفوظ ہو اور اختلاف رکھنے والے شہری کو دشمن نہیں بلکہ اپنے ہی ملک کا شہری سمجھنا ھے !