ڈاکٹر حمیرا طارق
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم نظریے، بلند مقصد اور اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے یہ وطن اس امید کے ساتھ حاصل کیا تھا کہ یہاں ایسا معاشرہ قائم ہوگا جہاں عدل و انصاف، انسانی وقار، مساوات اور کمزور طبقات کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔ اسلام نے عورت، بچے، یتیم اور ہر کمزور فرد کے حقوق کی حفاظت کو نہ صرف اخلاقی فریضہ بلکہ ریاستی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ ریاستِ مدینہ کا تصور بھی اسی بنیاد پر استوار تھا کہ معاشرے کا سب سے کمزور فرد بھی خود کو محفوظ، باعزت اور انصاف سے محروم نہ سمجھے۔بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی ایسے پاکستان کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی ہو، شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور ہر فرد کو ترقی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ آئینِ پاکستان اسی وڑن کی عکاسی کرتا ہے اور ریاست کو خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کا پابند بناتا ہے۔لیکن آج جب خواتین پر تشدد، کم سن بچوں کے استحصال، گھریلو ملازمین پر ظلم، تیزاب گردی، ہراسگی اور جنسی جرائم کے واقعات مسلسل سامنے آتے ہیں تو ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: کیا ہم واقعی اس مقصد کے مطابق ایک محفوظ اور فلاحی معاشرہ تشکیل دے سکے ہیں جس کے لیے پاکستان حاصل کیا گیا تھا؟پاکستان میں خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں۔ آئینِ پاکستان انسانی وقار، جان و مال کے تحفظ اور مرد و عورت کی مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ خواتین کو ہراسگی، گھریلو تشدد، تیزاب گردی، جبری شادی اور وراثت سے محرومی جیسے مظالم سے بچانے کے لیے خصوصی قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں۔ اسی طرح بچوں کو جبری مشقت، اغوا، استحصال اور جنسی تشدد سے محفوظ رکھنے کے لیے بھی مختلف قانونی اور انتظامی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر قوانین موجود ہیں تو پھر ظلم و تشدد کے یہ واقعات رک کیوں نہیں رہے؟
حالیہ دنوں لاہور میں کم سن گھریلو ملازمہ کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ پوری قوم کے لیے صدمے کا باعث بنا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ بچی نے مبینہ جنسی تشدد کی شکایت کی تھی اور اپنی وفات سے قبل دیے گئے بیان میں بھی سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کیے جانے سے معاملے کی سنگینی مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ خواتین آج بھی مختلف نوعیت کے تشدد اور جرائم کا سامنا کر رہی ہیں۔
یہ واقعات محض انفرادی جرائم نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں بڑھتے ہوئے اخلاقی بحران اور اجتماعی بے حسی کی علامت ہیں۔ گھریلو ملازمین، خصوصاً کم عمر بچیاں، اکثر ایسے ماحول میں کام کرتی ہیں جہاں ان کے حقوق کے تحفظ، نگرانی اور شکایات کے ازالے کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ دوسری جانب خواتین کے خلاف ہراسگی، گھریلو تشدد اور تیزاب گردی جیسے جرائم اس حقیقت کو آشکار کرتے ہیں کہ قانون سازی کے باوجود عملدرآمد کا نظام اب بھی کمزور ہے۔تحفظِ خواتین از ہراسگی ایکٹ 2010، پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016، ایسڈ کرائمز سے متعلق قوانین، زینب الرٹ ایکٹ 2020، جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 اور دیگر چائلڈ
پروٹیکشن قوانین اپنی جگہ نہایت اہم ہیں، لیکن جب تک ان پر مکمل، غیر جانبدار اور بلاامتیاز عملدرآمد نہیں ہوگا، ان کے ثمرات عام شہری تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ انصاف اسی وقت مؤثر سمجھا جاتا ہے جب کمزور اور طاقتور دونوں کے لیے قانون کا معیار یکساں ہو۔اس صورتحال میں ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ دینی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان اور بالخصوص حلقہ خواتین جماعت اسلامی نے ہمیشہ خواتین، بچوں اور دیگر کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر آواز بلند کی ہے۔ خواتین پر تشدد، گھریلو استحصال، تعلیم، صحت، خاندانی نظام کے استحکام اور قانونی آگاہی جیسے موضوعات پر حلقہ خواتین مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ قانون سازی، عوامی شعور بیدار کرنے اور متاثرہ خاندانوں کی داد رسی کے لیے بھی فعال کردار ادا کرتا رہا ہے۔حلقہ خواتین جماعت اسلامی کے مختلف شعبہ جات اور ادارے خواتین، بچوں اور خاندان کے تحفظ و فلاح کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے ذریعے قانونی آگاہی، سماجی معاونت، تربیتی سرگرمیوں اور خاندانی مشاورت کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین اپنے حقوق سے آگاہ ہوں اور معاشرے میں باوقار اور محفوظ مقام حاصل کر سکیں۔وقت کا تقاضا ہے کہ لاہور کی کم سن ملازمہ اور تیزاب گردی جیسے واقعات کو محض خبروں تک محدود نہ رہنے دیا جائے۔ ان واقعات کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئیں، مجرموں کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا ملنی چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل قانونی، نفسیاتی اور معاشی معاونت فراہم کی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی گھریلو ملازمین، خصوصاً کم عمر بچیوں کے تحفظ کے لیے جامع قانون سازی اور مؤثر نگرانی کا نظام قائم کرنا ناگزیر ہے۔
ایک مہذب، اسلامی اور فلاحی ریاست کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کو بھی مکمل تحفظ اور فوری انصاف فراہم کرے۔ خواتین اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہیں۔ حکومت، عدلیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیمی مراکز، میڈیا اور سماجی تنظیموں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی جو صرف قانون سازی تک محدود نہ ہو بلکہ اس کے مؤثر نفاذ کو بھی یقینی بنائے۔جب تک ظالم کو یہ یقین نہ ہو کہ قانون اس تک ضرور پہنچے گا اور مظلوم کو یہ اعتماد نہ ہو کہ اسے انصاف ضرور ملے گا، تب تک ایک محفوظ، باوقار اور حقیقی فلاحی معاشرے کا خواب شرمند تعبیر نہیں ہو سکتا۔