لاہور ہائیکورٹ میں سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کے جوا ایپ کی تشہیر کے مقدمے میں سماعت ہوئی۔
عدالت نے درخواست گزار ایڈووکیٹ عمران چدھڑ کے پیش ہونے کے بعد سماعت کی، جس میں سعد الرحمٰن نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ انہیں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بیرونِ ملک جاتے وقت ایئرپورٹ سے گرفتار کیا، حالانکہ انہیں کسی قسم کا نوٹس یا طلبی موصول نہیں ہوئی تھی۔درخواست میں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں گرفتاری کے بعد دس روز تک جسمانی ریمانڈ پر این سی سی آئی اے کی تحویل میں رکھا گیا۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے، جواب طلب کیا اور مزید کارروائی ملتوی کر دی۔ اس مقدمے میں دیگر اداروں کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ تمام فریقین اپنے موقف کے ساتھ جواب جمع کرائیں۔