بھارت نے پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان پاکستانی پرچم بردار بحری جہازوں پر بندرگاہوں تک رسائی پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ فیصلہ 22 اپریل کو پلواما، کشمیر میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بھارتی حکام نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔
پابندی کی تفصیلات:
پاکستانی جہازوں کی بندرگاہوں تک رسائی پر پابندی: بھارت کی وزارتِ بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی راستوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو بھارتی بندرگاہوں پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح، بھارتی پرچم بردار جہازوں کو بھی پاکستانی بندرگاہوں پر جانے سے روکا گیا ہے۔
قانونی بنیاد: یہ پابندی 1958 کے مرچنٹ شپنگ ایکٹ کی دفعہ 411 کے تحت لگائی گئی ہے، جس کا مقصد بھارتی اثاثوں، مال اور بندرگاہی انفراسٹرکچر کی حفاظت ہے۔
عملدرآمد: یہ پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہے اور جب تک مزید حکم نہ ہو، برقرار رہے گی۔ تمام بھارتی بندرگاہوں، مرچنٹائل میری ٹائم ڈیپارٹمنٹس اور متعلقہ اداروں کو اس حکم کی تعمیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تجارتی اثرات:
بھارت نے پاکستان سے براہ راست اور بالواسطہ تمام درآمدات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی 2 مئی 2025 کو بھارت کی ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کی جانب سے جاری کی گئی تھی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی تمام اشیاء کی درآمد اور ٹرانزٹ کو قومی سلامتی اور عوامی پالیسی کے مفاد میں روکا گیا ہے۔
یہ اقدامات دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر پاکستان کے لیے جو بھارت سے ادویات کی درآمد پر انحصار کرتا ہے۔
دیگر اقدامات:
اس کے علاوہ، بھارت نے پاکستان کے ساتھ فضائی روابط بھی معطل کر دیے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو کم کر دیا ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ بھی معطل کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہے۔ پاکستان نے بھی جوابی اقدامات کیے ہیں، جن میں بھارت کے ساتھ تمام تجارتی تعلقات معطل کرنا شامل ہے۔