افغانستان : 51 ٹھکانوں پر بمباری، مزید 20طالبان ہلاک

آپریشن غضب للحق،طالبان رجیم کی ہلاکتیں435ہو گئیں،مزید پوسٹیں تباہ،630 سے زائدافغان اہلکار زخمی ہو چکے
 جلال آباد ، خوست میں ایمونیشن ڈپو ، ڈرون سٹوریج سائٹ بھی تباہ ،افغان طالبان حکام ڈر کر صوبہ بامیان فرار 
 اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستانی افواج کا افغان طالبان رجیم کے خلاف آپریشن غضب للحق چھٹے روز بھی کامیابی سے جاری ہے، مزید20افغان اہلکار ہلاک اور 50زخمی ہو چکے، ہلاکتیں 435ہو گئیں جبکہ اب تک افغانستان کے اندر 51مقامات کو فضائی کارروائی میں بھی مئوثرطورپرنشانہ بنایا جا چکا ہے۔وفاقی وزیراطلاعات عطاء اللہ تارڑ نیپیر کو سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں آپریشن غضب للحق کی تازہ ترین صورتحال بتا تے ہوئے کہا کہ اب تک افغان طالبان رجیم کے 435 کارندے ہلاک اور 630 سے زائد زخمی ہو چکے ، پاک فوج کی جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی 188 چیک پوسٹیں تباہ ہوچکیں ، 31 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا جا چکا۔ افغان طالبان کے 188 ٹینک، بکتربند گاڑیاں اور توپ خانہ بھی تباہ ہوئے،پاک فضائیہ نے افغان طالبان رجیم کے 51 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ علاوہ ازیں پاک فوج نے افغان طالبان کے جلال آباد اور خوست میں 2اسلحہ ڈپو اور ڈرون سٹوریج سائٹ کوکامیابی سے تباہ کردیا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق موثر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئی کارروائیوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دیا گیا جس کے نتیجے میں دشمن کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ خوست میں بڑے ایمونیشن ڈپو کو نشانہ بنایا گیا ،یہ ٹھکانہ سرحدی علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں کیلئے استعمال ہو رہا تھا، جسے مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات دفاعی حکمتِ عملی کے تحت کئے جا رہے ہیں اور ان کا مقصدافغانستان سرحدپار سے ہونے والی دراندازی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا سدباب کرنا ہے۔ دریں اثناء پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی ایک اور پوسٹ کو دھماکہ خیز موادسے اڑادیا،پکتیکا میں افغان پوسٹ تباہ کر دی جبکہ طالبان اسلحہ چھوڑکر بھاگنے پر مجبورہوگئے۔پاک افواج فتنہ الخوارج اور افغان طالبان فوج کے ٹھکانوں اور فوجی تنصیبات کو موثر انداز میں نشانہ بنا رہی ہیں اوردشمن کو ہر محاذ پر پسپائی کا سامنا ہے اور اس کے اہم عسکری اثاثے تباہ کئے جا چکے ہیں۔ افغان طالبان حکام پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے ڈر سے ملک کے وسطی صوبے بامیان فرار ہوگئیہیں۔افغان میڈیا نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے حکام نے پاکستان کی فضائی کارروائیوں کے خوف سے اپنے ٹھکانے تبدیل کر لئے ہیں اورطالبان رجیم کے حکام 5 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان پہنچ چکے، یہ ہیلی کاپٹر آخری اطلاعات تک بامیان ائیرپورٹ پر ہی موجود ہیں ۔دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ پیش رفت سے واضح ہو گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کے دفاع اور داخلی سلامتی کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی کا متحمل نہیں ہو سکتا، موجودہ صورتحال کے پیش نظر خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم حکام کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔