جنازے میں سراج الحق ،افغان قونصلر ،علما کرام سمیت ہزاروں افراد کی شرکت
مقدمہ درج ،خودکش بمبار کی شناخت کرنیوالے کیلئے 5لاکھ کے انعام کا اعلان
پشاور،نوشہرہ (خصوصی رپورٹ)اکوڑہ خٹک میں خودکش حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے مولانا حامدالحق کی نماز جنازہ دارالعلوم حقانیہ میں ادا کردی گئی اورانہیں اپنے شہید والد مولانا سمیع الحق شہید کے پہلو میں سپردخاک کردیاگیا۔ مولانا حامدالحق کی نماز جنازہ ان کے فرزند مولانا عبدالحق ثانی نے پڑھائی، نماز جنازہ میں سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق، افغان قونصل جنرل اور دیگر سیاسی شخصیات سمیت ہزاروں کی تعداد میں علمائے کرام، مشائخ، علاقہ معززین اور شہری بھی شریک ہوئے۔سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جنازگاہ میں داخلے کیلئے واک تھرو گیٹ لگائے گئے تھے اور شرکا کو جامہ تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت دی گئی۔ جنازے کے موقع پر مولانا عرفان الحق حقانی نے حقانی خاندان اور مشائخ دارالعلوم حقانیہ کی ترجمانی کرتے ہوئے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ مولانا راشد الحق حقانی بن مولانا سمیع الحق شہید اتفاق رائے سے دارالعلوم حقانیہ کے نائب مہتمم ہوں گے انہوں نے جنازہ میں شریک تمام افراد سے ہاتھ کھڑے کرکے مولانا راشد الحق سمیع کی بطور نائب مہتمم اور مولانا عبدالحق ثانی کو اپنے شہید والد کا سیاسی جانشین بننے کی تائید حاصل کی۔ بعدازاں دستاربندی کے بعد تمام علما اور مشائخ سمیت ہزاروں لوگوں نے متفقہ قراداد پیش کی کہ حکومت خود کش دھماکے کے مجرموں کو بے نقاب کرکے کیفر کردار تک پہنچا ئے۔دوسری طرف دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ میں خودکش حملے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی مردان میں عبدالحق ثانی کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں ۔سی ٹی ڈی نے خودکش حملہ آورکی شناخت میں عوام سے مدد طلب کرلی اوراطلاع دینے والیشخص کو 5 لاکھ روپے بطور انعام دینے کا اعلان کیاہے۔خودکش حملہ آور کے اعضاء کے نمونے شناخت کیلئے نادرا کو ارسال کر دئیے گئے ہیں اور تحقیقاتی ٹیموں نے مختلف مقامات سے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا حامدالحق مسجد سیگھر کیلئے نکلے تو سیڑھیوں کے قریب حملہ آور ان سے ملا، خودکش حملہ آور سیڑھیوں تک کیسے پہنچا تفتیشی ٹیمیں اس معاملے کی کھوج لگا رہی ہیں۔دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک خودکش حملے میں صوابی سے تعلق رکھنے والے 2 شہداء کی نماز جنازہ بھی ادا کردی گئی، شہید عبدالوحید کی نماز جنازہ ان کے گاؤں زیدہ جبکہ شہید شاعر و ادیب تجمل شاہ عرف تجمل فرحان کی نماز جنازہ ان کے گاؤں جلسئی میں ادا کی گئی۔