سیاحتی مقام وادی کمراٹ میں برف پگھلنے کے باعث دریا کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث علاقے میں کسی بھی وقت خطرناک صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حالیہ صورتحال میں وادی کمراٹ کی بائی پاس سڑک دریا کے تیز بہاؤ کی نذر ہو گئی، تاہم اس کے باوجود کچھ مقامات پر گاڑیوں کی آمدورفت جاری ہے۔ اسی دوران بائی پاس روڈ پر پانی کے شدید بہاؤ کی وجہ سے ایک موٹر سائیکل سوار بہہ گیا، جسے مقامی افراد اور امدادی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچا لیا، جبکہ موٹر سائیکل پانی میں لاپتا ہو گئی۔دوسری جانب صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے گزشتہ روز ہونے والی تیز آندھی، بارش اور موسمی صورتحال کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی ہے۔رپورٹ کے مطابق آسمانی بجلی گرنے اور گھروں کی دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات میں اب تک 2 افراد جاں بحق جبکہ 31 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں 7 خواتین، 16 مرد اور 8 بچے شامل ہیں۔ یہ واقعات صوبے کے مختلف اضلاع پشاور، چارسدہ، نوشہرہ اور بنوں میں پیش آئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ متاثرین کو فوری ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئی ہے۔مزید بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور تیز ہواؤں کا موجودہ سلسلہ 5 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا معلومات کے لیے 1700 پر رابطہ کریں۔