لاہور ہائیکورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایک خاتون کو اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی، جس کے بعد عدالت کے باہر شدید جذباتی صورتحال پیدا ہو گئی۔
یہ کیس درخواست گزار غلام حسین کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ شبنم بی بی کو ان کے سابق شوہر اور اہلِ خانہ نے غیر قانونی طور پر اپنی تحویل میں رکھا ہوا ہے، اور عدالت انہیں بازیاب کر کے ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے۔
عدالت میں مؤقف
سماعت کے دوران شبنم بی بی نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ غلام حسین سے نکاح کر چکی ہیں اور وہی ان کے موجودہ شوہر ہیں، اس لیے وہ ان کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہیں۔عدالت نے خاتون کا بیان ریکارڈ کرنے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے انہیں اپنے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔یہ فیصلہ لاہور ہائیکورٹ نے حبسِ بے جا کی درخواست کے تحت کیا۔
عدالت کے باہر صورتحال
عدالتی فیصلے کے بعد کمرہ عدالت کے باہر افسوسناک اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جہاں خاتون کی پہلی شادی سے ہونے والی آٹھ بیٹیاں شدید روتی رہیں۔بیٹیوں میں سے ایک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی والدہ نے عدالت میں انہیں پہچاننے سے بھی انکار کیا اور اپنے نئے شوہر کے حق میں بیان دیا۔