حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، اپوزیشن بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے: راجہ ناصر عباس

حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں، اپوزیشن بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے: راجہ ناصر عباس

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی ملاقاتوں اور مذاکرات کے معاملے پر سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی، جبکہ اپوزیشن ملک کے مسائل کے حل کے لیے بامقصد سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اپوزیشن نے ہمیشہ مذاکرات اور سیاسی روابط کے ذریعے مسائل حل کرنے کی بات کی ہے، حکومت کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھے اور سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کرے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن وزیرِاعظم اور حکومتی وفد کے ساتھ بامقصد بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کی جانب سے عملی اقدامات ضروری ہیں۔راجہ ناصر عباس نے بتایا کہ محمود اچکزئی نے بھی مذاکرات کے حوالے سے تجاویز دی تھیں۔ ان کے مطابق اچکزئی نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کے کانسٹیٹیوشن روم میں ملاقات کی جا سکتی ہے، جبکہ انہوں نے رانا ثناء اللہ کو ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی پیشکش بھی کی تھی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وہ اربعین کے سلسلے میں موجود ہیں، تاہم اگر مذاکرات کا فیصلہ کل بھی ہو جائے تو وہ فوری طور پر واپس پاکستان آ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن قومی معاملات کے حل کے لیے سیاسی راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتی ہے۔دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ترجمان اخونزادہ حسین یوسفزئی نے بھی حکومت کی مذاکراتی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی بات چیت چاہتی تو اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف مقدمات درج نہ کیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول ضروری ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ صورتحال میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن قیادت کی اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں میں رکاوٹیں پیدا نہ کی جاتیں۔اخونزادہ حسین یوسفزئی نے مزید کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ان کے اہلِ خانہ کو بھی ملاقات کے مسائل کا سامنا ہے، جو مذاکراتی عمل کے لیے مثبت ماحول پیدا نہیں کرتا۔سیاسی مبصرین کے مطابق حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث سیاسی مذاکرات کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، تاہم دونوں جانب سے اعتماد سازی کے اقدامات کیے جانے کو ممکنہ پیش رفت کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔