عدالت نے ماں کو ڈنڈوں سے قتل کرنے والے ملزم کی سزا کالعدم قرار دیدی:تحریری فیصلہ جاری
گواہ موقع پر موجود تھے تو انہوں نے خاتون کو کیوں نہیں بچایا :جسٹس عرفان سعادت کے ریمارکس
اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ نے سرگودھاکے علاقے سلانوالی میں بیٹے کے ہاتھوں ماں کے قتل کے مقدمے میں قراردیاہے کہ یہ طے شدہ قانونی ضابطہ ہے کہ فوجداری مقدمات میں استغاثہ کی تحقیقات کے دوران پایاجانے والاایک بھی شک ملزم کے حق میں جاتاہے،ملزم کے حق میں اضافہ کاباعث بنتاہے۔جس کانتیجہ اس کی رہائی پرمنتج ہوتاہے۔طبی شہادت اور اسلحہ کی برآمدگی میں بھی شکوک پائے جاتے ہیں اس لیے ماں کوڈنڈے سے مارنے والے ملزم بیٹے کی سزائے موت کے حوالے سے ہائی کورٹ اور ضلعی عدلیہ کافیصلہ کالعدم قرار دیاجاتاہے اور ملزم کے خلاف اگرکوئی اور مقدمہ نہیں ہے تواس کوفوری طورپررہاکیاجائے۔ملزم نے نشے کے لیے رقم ماں سے مانگی نہ دینے پر اس نے اسے ڈنڈے مارکرہلاک کردیاتھا،جسٹس عرفان سعادت خان نے گیارہ صفحات پرمشتمل فیصلہ تحریرکیاہے جسٹس اطہرمن اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے فیصلہ دیاتھااور اب اس پر تحریری فیصلہ جاری کیاگیاہے۔عدالت نے پانچ مئی 2025کومحمدبلال بنام سرکارکیس کی سماعت کی تھی اور ملزم کو سنائی جانیوالی سزا کو کالعدم قرار دیکر رہاکرنے کا حکم دیا تھا ۔