سول مقدمہ زیرِ سماعت ہونے سے فوجداری کارروائی نہیں رک سکتی لاہورہائی کورٹ

14 صفحات پر مشتمل  تحریری فیصلہ، فوجداری مقدمات کو قانون کے مطابق معمول کے طریقہ کار کے تحت آگے بڑھنا چاہیے:جسٹس محمد امجد پرویز 
لاہور(آئی این پی )لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی معاملے سے متعلق سول مقدمہ زیرِ سماعت ہونے کی بنیاد پر فوجداری کارروائی نہیں روکی جا سکتی، سول اور فوجداری کارروائیاں بیک وقت جاری رہ سکتی ہیں، عدالت نے واضح کیا کہ محض سول تنازع موجود ہونے کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد پرویز نے چوہدری ارشاد اللہ چٹھہ کی درخواست پر 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے اللہ وسایا وغیرہ کی جانب سے دائر دونوں آئینی درخواستیں ناقابلِ میرٹ قرار دے کر خارج کر دیں۔عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ سول کیس کا زیرِ التوا ہونا فوجداری کارروائی روکنے کی قانونی وجہ نہیں ہے، اگر کسی معاملے میں بیک وقت سول اور فوجداری پہلو موجود ہوں تو دونوں کارروائیاں اپنے اپنے قانونی دائرہ کار کے مطابق جاری رہ سکتی ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے مزید قرار دیا کہ مبینہ جعلسازی کا جرم اگر سول مقدمہ دائر ہونے سے پہلے کیا گیا ہو تو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 195(1)(c) کا اطلاق نہیں ہوتا، صرف اس بنیاد پر فوجداری کارروائی کو روکا نہیں جا سکتا کہ اسی معاملے سے متعلق سول مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے