رام مندر چندہ تنازع: شیو سینا کا بی جے پی پر شدید حملہ

رام مندر چندہ تنازع: شیو سینا کا بی جے پی پر شدید حملہ

ممبئی: بھارت کی سیاسی جماعت شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے رام مندر کے عطیات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ "رام مندر اب مندر سے زیادہ دکان بن گیا ہے"۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ رام مندر ہندوؤں کا مقدس مذہبی مقام ہے، لیکن بی جے پی نے اسے سیاسی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھگوان رام کے نام پر کاروبار کیا جا رہا ہے، جبکہ رام مندر کے عطیات میں مبینہ چوری کے واقعات صرف مالی بے ضابطگیاں نہیں بلکہ ہندوؤں اور ہندوتوا کے ساتھ بھی دھوکہ ہیں۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ "مندر وہیں بنائیں گے" کا نعرہ دینے والوں نے آخرکار مندر کیوں تعمیر کیا، اب اس کی وجہ سمجھ میں آ رہی ہے۔ادھو ٹھاکرے نے 28 جون کو ہونے والے مہاراشٹر ٹی ای ٹی امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے لیے شرمناک واقعہ ہے۔

 انہوں نے الزام لگایا کہ پرچہ لیک کرنے والے ایک ہی مخصوص خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اسی لیے وہ ہر بار بچ نکلتے ہیں اور دوبارہ ایسے جرائم میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھوکے اور بدعنوانی کا رجحان مہاراشٹر کو کھوکھلا کر رہا ہے، جسے بروقت نہ روکا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔شیو سینا کے سربراہ نے پارٹی کے باغی رکن پارلیمنٹ سنجے دیش مکھ اور بی جے پی پر بھی شدید تنقید کی۔ کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ووٹروں سے ایک "غدار" امیدوار کو میدان میں اتارنے پر عوامی طور پر معافی مانگی اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والوں اور بی جے پی کو اپنے ووٹ کے ذریعے جوابدہ ٹھہرائیں۔