نئی دہلی: اہم ریاستی انتخابات سے قبل رام مندر میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات نے بھارتی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق رام مندر کی انتظامیہ پر ہندو عقیدت مندوں کے عطیات میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔رام مندر، جو 1992 میں شہید کی گئی بابری مسجد کی جگہ تعمیر کیا گیا، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اہم سیاسی اور مذہبی منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ مبینہ کرپشن کے الزامات کے بعد اپوزیشن نے بی جے پی کے بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے وزیراعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت کے لیے "قوم پہلے نہیں بلکہ چندہ پہلے ہے"۔آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے رام مندر منصوبے میں تقریباً 5 ہزار کروڑ بھارتی روپے کی مبینہ کرپشن کا الزام عائد کیا۔سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی کے مطابق بی جے پی طویل عرصے سے رام مندر کو اپنے مرکزی سیاسی بیانیے کا حصہ بناتی رہی ہے، اس لیے ان الزامات کے سیاسی اثرات بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔