لاہور کے علاقے مانگا منڈی میں ایک مدرسے کے قاری کی جانب سے مبینہ طور پر سبق یاد نہ کرنے پر 7 سالہ طالبعلم کو لوہے کے راڈ سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے بچے کی حالت غیر ہو گئی۔
واقعہ مانگا منڈی کے مدرسہ "اویس قرنی" میں پیش آیا جہاں قاری شاہد نامی معلم نے بچے فیضان کو معمولی تعلیمی غلطی پر انتہائی تشدد کا نشانہ بنایا۔
والد کی جانب سے مقدمے کی درخواست
متاثرہ طالبعلم کے والد کی جانب سے قاری شاہد، احمد اور اسحاق کے خلاف مقدمے کے اندراج کے لیے تھانے میں تحریری درخواست جمع کرا دی گئی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے:"میرے بیٹے فیضان کو سبق یاد نہ کرنے پر قاری شاہد نے لوہے کے راڈ سے مارا، جس سے اس کی طبیعت بگڑ گئی۔ ہم نے جب مدرسے سے شکایت کی تو قاری شاہد اور اس کے ساتھی احمد اور اسحاق نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔"
پولیس کی کارروائی
پولیس کے مطابق:"متاثرہ طالبعلم کا ابتدائی میڈیکل معائنہ کروا لیا گیا ہے، رپورٹ کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ واقعے کی مکمل انکوائری کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔"
سوشل میڈیا پر ردعمل
واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہریوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں۔
ماہرین کی رائے
بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں کا کہنا ہے کہ:"مدارس اور تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا پر مکمل پابندی ہے۔ اس نوعیت کا تشدد نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ بچوں کے ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بھی تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔"
تجویز کردہ اقدامات
مدرسے کے انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
قاری شاہد کو فوری معطل اور گرفتار کیا جائے۔
بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
والدین اور طلباء کو ہیلپ لائنز اور قانونی سہولیات سے متعلق آگاہی دی جائے۔