گورنر خیبر پختونخوا، فیصل کریم کنڈی، نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس پر شدید تنقید کی ہے۔
انہوں نے اس اجلاس کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا انعقاد عوام کے مسائل کے حل کی بجائے بےمقصد ہے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسلام آباد میں اس نوعیت کے اجلاس کا انعقاد کسی بھی طور پر صوبے کے عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوگا۔گورنر نے یہ بھی کہا کہ اجلاس میں صرف مخصوص جماعتوں کو مدعو کرنا ایک ناکام کوشش ہے جو قوم کو مزید تقسیم کرنے کی طرف لے جائے گی۔ ان کا موقف تھا کہ ایک جمہوری نظام میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو برابر کی نمائندگی ملنی چاہیے، جبکہ اس اجلاس میں بعض سیاسی جماعتوں کو شامل کرنا ایک طرفہ اور غیر جمہوری قدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے پر ان کی حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (APC) کا انعقاد کیا تھا، تاکہ تمام سیاسی جماعتیں اس مسئلے پر بات چیت کر سکیں اور مشترکہ طور پر کوئی حل نکال سکیں۔ فیصل کریم کنڈی کے مطابق، اس وقت کی آل پارٹیز کانفرنس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا گیا تھا، جو کہ جمہوری اصولوں کے مطابق تھا۔ ان کے مطابق موجودہ اجلاس میں ایسا نہیں کیا گیا، جس سے عوام میں مزید تقسیم اور انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔