خیبر پختونخوا حکومت گرانے کی سازش ہو رہی، کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور

خیبر پختونخوا حکومت گرانے کی سازش ہو رہی، کسی بھی وقت اسمبلی تحلیل کر سکتا ہوں: علی امین گنڈاپور

ویب ڈیسک: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنے ایک اہم ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ وہ کسی بھی وقت صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صوبائی حکومت نے بجٹ منظور نہ کیا تو وفاق فنانشل ایمرجنسی لگا کر خیبر پختونخوا کا انتظامی کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔

اہم نکات:
علی امین گنڈا پور نے کہا کہ سازشوں کے ذریعے خیبر پختونخوا حکومت کو گرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ گورنر نے بجٹ اجلاس کی سمری منظور نہیں کی، جو ایک آئینی ذمہ داری ہے۔وزیراعلیٰ نے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو آج کے اجلاس میں کٹ موشن پر ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت دی ہے تاکہ بجٹ کی منظوری کا عمل نہ شروع ہو۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے مشاورت پر اصرار:
علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا بجٹ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی مشاورت اور منظوری کے بغیر منظور نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے قائد سے ملاقات کی اجازت نہ دینا سیاسی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
نظام کے خلاف احتجاج کی دھمکی:
وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ وہ اس "نظام" کے خلاف تحریک چلائیں گے، کیونکہ یہ نظام مزید چلنے کے قابل نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے جس سے عوامی مینڈیٹ کو نقصان پہنچے۔
پس منظر:
خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ پیش کیے جانے اور منظوری کے معاملے پر بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ وفاقی سطح پر آئینی ماہرین خبردار کر چکے ہیں کہ اگر 30 جون تک بجٹ منظور نہ ہوا تو آئین کے آرٹیکل 234 یا 235 کے تحت وفاق صوبے میں ایمرجنسی نافذ کر سکتا ہے۔وزیراعلیٰ کا حالیہ بیان ایک بڑی سیاسی کشمکش کی نشاندہی کرتا ہے جس کے اثرات صرف خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہ سکتے بلکہ وفاقی سطح پر بھی گہرے سیاسی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔