سینیٹ کی 11نشستوں، پنجاب و اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے بھی مسائل
ای ایم ایس سے نتائج میں تاخیر، کمشنر کی پریس کانفرنس جیسے تنازعات کا بھی سامنا
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ ) 2024میں الیکشن کمیشن 8فروری کے عام انتخابات کے بعد نتائج فارم 45اور 47، تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی انتخابات کے فیصلے، قومی اسمبلی کی 70مخصوص نشستیں پارلیمانی جماعتوں کو دینے اور سینیٹ کی 11نشستوں پر انتخابات، پنجاب و اسلام آباد میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے حوالے سے مسائل کا شکار رہا۔ الیکشن کمیشن کی اہم کامیابی 8فروری کو ملک بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کاانعقاد ہے، الیکشن کمیشن کو انتخابات کے بعد جن بڑے تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ان میں انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث ای ایم ایس کے ذریعے انتخابی نتائج تاخیر سے موصول ہونا، کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ کی پریس کانفرنس شامل تھی۔ الیکشن کمیشن نے ای ایم ایس سے انتخابی نتائج وصولی کے حوالے سے بہت دعوے کیے تھے تاہم انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے یہ سسٹم نہیں چل سکا تھا۔ الیکشن ٹربیونل میں ریٹائرڈ جج تعیناتی کے احکامات بھی تنازع کاشکار ہوئے جو پارلیمنٹ سے ایکٹ میں ترمیم کر کے حل کیاگیا۔ الیکشن کمیشن کے وفاقی دارالحکومت میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد موخر کرنے اور نئی یونین کونسل، حلقہ و حد بندیوں کی منظوری تاحال نہ ہوسکی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود الیکشن کمیشن پنجاب میںمقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ عام انتخابات کو10ماہ اور پارلیمنٹ کو آٹھ ماہ گزرچکے تاحال خواتین اور اقلیتوں کی 70مخصوص نشستوں کا معاملہ حل طلب اور سینیٹ کی 11نشستیں بھی خالی ہیں۔