وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، علی امین گنڈاپور نے 26 نومبر کے سانحہ پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیراعظم کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ ایپکس فورم پر گولی چلنے کا انکار کریں، حالانکہ اس دن 13 شہداء کی تصدیق ہو چکی ہے اور انصاف کی تلاش کا عمل جاری رہے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امن و امان کے قیام کے لیے آخری حد تک جائیں گے اور سرحد پار سے آنے والے عناصر کو روکنے کے لیے ان کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اور قبائلی عمائدین کو افغانستان کے ساتھ جرگہ کے ذریعے بات چیت کا موقع دیا جائے گا۔ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اسلام آباد پر ہونے والی یلغار کی مذمت کی اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹ کا رد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل محاذ پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے اور بیرونِ ملک بیٹھے عناصر اس مہم میں شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کی روک تھام کے لیے صوبوں اور وفاقی حکومت کے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس حملے میں رینجرز، پولیس اور پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسلام آباد پر چڑھائی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کے خلاف چلنے والی مہم کو روکا جا سکے۔