لاہور: تحریک انصاف کی اسیر رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد نے جیلوں میں بند اپنے پارٹی کارکنوں کے حوالے سے اہم باتیں کیں اور حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کی شدید مذمت کی۔
عدالت پیشی کے دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ "ہمارے 5 ہزار 700 کارکن جیلوں میں ہیں، اور ان میں 40 فیصد دیہاڑی دار ہیں جن کی تکلیف بہت زیادہ ہے۔"
کارکنوں کی رہائی کی درخواست: ڈاکٹر یاسمین راشد نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے کوئی ڈیمانڈ نہیں کی جا رہی، صرف یہ درخواست کی جا رہی ہے کہ ان کے کارکنوں کو جیلوں سے رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم صرف اپنے کارکنوں کی آزادی چاہتے ہیں، ان کی حالت بے حد خراب ہے۔"
خالد خورشید اور انسانی حقوق کی پامالی: ڈاکٹر یاسمین راشد نے پی ٹی آئی کے رہنما خالد خورشید کے ساتھ زیادتی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کے ساتھ انتہائی ظلم کیا گیا ہے۔ "انسانی حقوق کی پامالی کا کوئی حساب نہیں رہا، پوری دنیا میں ہم بے عزت ہو رہے ہیں۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جانا چاہیے، خاص طور پر پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سمیت تمام قیدیوں کی رہائی کی ضرورت ہے۔
جمہوریت اور احتجاج کے حق کی اہمیت: ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ "ہمارے لیے سب سے اہم جمہوریت ہے، جمہوریت احتجاج کا حق دیتی ہے، ہم سب مل کر اس ملک کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا کہ جو لوگ تحریک انصاف کو "برگر پارٹی" کہتے تھے، وہ اب عوام کی حمایت کے بغیر نہیں رہ سکتے کیونکہ پارٹی نے جیلوں میں ماریں کھائیں ہیں۔
ملٹری کورٹس اور سولین ٹرائلز پر اعتراض: انہوں نے ملٹری کورٹس کے خلاف بھی اپنی رائے کا اظہار کیا اور کہا کہ "میں ملٹری کورٹس کو نہیں مانتی، سولین کا ٹرائل سول کورٹس میں ہونا چاہیے۔" ڈاکٹر یاسمین راشد نے یہ بھی کہا کہ پاکستان معاشی اور سماجی طور پر تباہ ہو چکا ہے، اور غریب عوام کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جا رہی ہے۔
9 مئی اور 26 نومبر کی انکوائری: ڈاکٹر یاسمین راشد نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا۔ "اگر کچھ غلط ہوا ہے تو سزائیں دی جائیں، لیکن احتجاج کا حق ہر شخص کو حاصل ہے۔" انہوں نے کہا کہ "عمران خان کو رینجرز نے پکڑا تھا اور ہمارے کارکن 26 نومبر کو مارے گئے، یہ نہ صرف غریب بلکہ امیر طبقے کے بچے بھی متاثر ہوئے۔"
صحت اور تعلیم کے مسائل: ڈاکٹر یاسمین راشد نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حکومتی ناکامیوں پر بھی تنقید کی۔ "صحت کارڈ ایک بڑی سہولت تھی جس کے ذریعے 42 لاکھ خاندان فائدہ اٹھا چکے تھے، لیکن بانی پی ٹی آئی کا نام نہ چلنے کی وجہ سے اس سکیم کو ختم کر دیا گیا۔"ڈاکٹر یاسمین راشد کی یہ گفتگو حکومتی اقدامات پر شدید تنقید اور جمہوریت، انسانی حقوق اور عوامی سہولت کے حوالے سے ان کے موقف کی عکاسی کرتی ہے۔