ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہوجائیں: طلال چوہدری

ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہوجائیں: طلال چوہدری

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ ہر بار کہہ دینا کہ ایجنسی اٹھاتی ہے، آپ خود پہاڑوں پر چڑھ جائیں، روپوش ہوجائیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسنگ پرسن ڈھائی ہزار سے بھی کم ہیں، یورپ اور مغرب کے نمبر دیکھ لیں، کتنے مسنگ پرسن ہیں۔طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ آزادی کی جنگ نہیں، ان کا مقصد لوگوں سے بھتہ لینا، لوٹ مار اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنیات سے مالا مال ہے، چاغی میں 5 ایسے منصوبے ہیں جہاں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر کام شروع ہو گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ظلم، مظلومیت اور محرومی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اگر این ایف سی میں شیئر بلوچستان کا پنجاب سے زیادہ ہو تو اسے کوئی نہیں دکھاتا، اگر کوئی یہ بتانے کے بجائے کہے کہ محرومی ہے، یہ غلط ہے۔طلال چوہدری نے کہا کہ بلوچستان میں تیرا کیڈٹ کالج ہیں جو کسی صوبے میں نہیں، ٹیکنیکل اسکولز اور ووکینشنل کالج 321 ہیں، بلوچستان میں بڑے اسپتال 13 ہیں۔وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ ن کہا کہ بلوچستان میں 25000 کلومیٹر کے قریب سڑکیں ہیں، دہشت گرد اگر لوگوں کی جنگ لڑ رہے ہیں تو یہ اسکولوں، اسپتالوں اور بینکوں پر حملہ کیوں کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہائی ویز کے پل گرانا کون سے حقوق ہیں، اگر اسکول کالج بینکس جل رہے ہوں تو پھر محرومی کا بیانیہ نہیں بنتا، لاپتہ افراد کا کمیشن کام کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ وہ وزیر تھے جو کوئٹہ پہنچے، اس واقعے کے علاوہ وزیرِ داخلہ ایک درجن سے زائد دفعہ خود گئے ہیں، ان کے اپوزیشن لیڈر نے جعفر ایکسپریس واقعے کی مذمت نہیں کی، طلال چودھری