وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کہا ہے کہ حکومت انہیں سڑکوں پر آنے یا احتجاج کی طرف نہیں دھکیل رہی بلکہ وہ خود تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں اور بلاوجہ تلخ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری ہے اور اس کارروائی کا مقصد شہر میں غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کرنا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو بھیجا گیا نوٹس بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے اور اس کا ان کی موجودہ سیاسی سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں۔طلال چوہدری نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کو بھیجے گئے نوٹس کو سیاسی تناظر میں دیکھنا درست نہیں، کیونکہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی پہلے سے جاری ہے اور اس کا اطلاق متعلقہ قواعد کے مطابق کیا جا رہا ہے۔وزیر مملکت نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے وزیراعظم کے ممکنہ مؤقف اور مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ کے بیان پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ رانا ثناء اللہ کا بیان ان کی ذاتی رائے ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم سمجھتے ہیں اس معاملے سے حکومت کو نقصان ہوسکتا ہے، فائدہ نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم واقعی یہ سمجھتے کہ مولانا فضل الرحمان کے معاملے پر بات کرنے سے حکومت کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو وفاقی وزرا اس موضوع پر گفتگو نہ کر رہے ہوتے۔طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت مولانا فضل الرحمان کو احتجاج یا سڑکوں پر آنے پر مجبور نہیں کر رہی بلکہ وہ خود تصادم کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان بلاوجہ تلخی پیدا کر رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف کارروائی کو سیاسی معاملات سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ انتظامی کارروائی ہے اور اس کا تعلق شہر میں قوانین پر عمل درآمد سے ہے۔