ہائیکورٹ آئیں یا اڈیالہ جائیں، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، طلال چوہدری

ہائیکورٹ آئیں یا اڈیالہ جائیں، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کارروائی ہوگی، طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے حالیہ بیانات اور اقدامات کے بارے میں ہے، جس میں انہوں نے سیاسی اور قانونی صورتحال پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ 

دفعہ 144 کا نفاذ:
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر راولپنڈی اور اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔ یہ قانون کسی بھی غیر قانونی یا اشتعال انگیز سرگرمی سے نمٹنے کے لیے نافذ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ آئیں یا اڈیالہ جیل جائیں، دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔
سیاسی سرگرمیوں پر پابندی:
انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا یا کسی صوبائی عہدیدار نے سرکاری وسائل استعمال کرکے اسلام آباد یا کسی اور جگہ سیاسی سرگرمی کی کوشش کی، تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کا مقصد سیاسی سرگرمیوں کے دوران قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔
سہیل آفریدی اور ہائی کورٹ کا حکم:
طلال چوہدری نے امید ظاہر کی کہ پشاور ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق سہیل آفریدی عمل کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی بھی اقدام نہ اٹھایا جائے جس سے ان کی سیاسی شعبدہ بازی کو فائدہ پہنچے یا عوامی جذبات کو مجروح کیا جائے۔
پی ٹی آئی پر تنقید:
انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاست کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارٹی اپنے بانی کی صحت پر سیاست کرتی ہے اور ہمدردی کارڈ کھیلتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے رہنما دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے بانی دنیا سے چلے گئے یا غائب کردیے گئے، جو کہ حقیقت سے دور ہے۔
بانی کے بچوں کا معاملہ:
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بچوں کو دو سال سے ویزہ نہیں ملا، حالانکہ ان کے بیٹوں کو 24 گھنٹوں میں ویزہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان کے دستاویزات کیوں نہیں دی جا رہیں۔
اسلام آباد جیل کا معاملہ:
طلال چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اسلام آباد جیل منتقل کرنا قبل از وقت ہے، کیونکہ جیل کا بعض کام ابھی باقی ہے۔ اس وقت اسلام آباد جیل میں محدود کام باقی ہے، اور یہ اقدام ابھی لازم نہیں ہے۔
الیکشن کمیشن میں سماعت:
اس سے پہلے، چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے کیس کی سماعت کی۔طلال چوہدری اور بلال بدر ذاتی حیثیت میں الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ ابتدا میں پیش نہ ہونے پر طلال چوہدری نے معافی مانگی اور کہا کہ انہوں نے تفصیلی جواب جمع کروادیا ہے۔چیف الیکشن کمشنر نے بلال بدر کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اعلان کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بلال بدر کامیاب امیدوار قرار پائے ہیں۔مجموعی طور پر، یہ خبر سیاسی، قانونی اور انتظامی سطح پر جاری جاری صورتحال کا عکاس ہے، جس میں حکومت، عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے اقدامات اور بیانات کا ذکر ہے۔