وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد درحقیقت افغانستان کے ایجنٹ ہیں جو دشمن قوتوں کے اشارے پر پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں، تاہم ریاست ان عناصر کو بلوچ عوام کے تعاون سے ناکام بنائے گی۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد گروہ ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کی یہ سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر پاکستان کے خلاف براہِ راست جنگ میں ناکامی کے بعد اب پراکسیز کے ذریعے حملے کروا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت اور افغانستان ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور اسی سرپرستی کے باعث بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیرِ دفاع نے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو پاکستان کی تحویل میں ہے اور اس کے علاوہ بھی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بیرونی مداخلت کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں بلوچستان میں نمایاں ترقی ہوئی ہے، سڑکوں، تعلیمی اداروں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، اور بلوچ عوام کا جمہوری حق ہے کہ وہ ترقی اور وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر پہلا حق بلوچ عوام کا ہے اور اگر کہیں چند مخصوص افراد ان وسائل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو وفاقی حکومت عام بلوچ شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وزیرِ دفاع نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم کے تعاون سے بھارت اور افغانستان کی پشت پناہی سے جاری پراکسی جنگ کو شکست دی جائے گی اور پاکستان کے امن، خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔