بلوچستان میں 3 بڑے دہشت گرد حملے، 60 اہلکار شہید، 54 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

بلوچستان میں 3 بڑے دہشت گرد حملے، 60 اہلکار شہید، 54 دہشت گرد ہلاک: ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں حالیہ دنوں کے دوران دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے، جن میں 42 سیکیورٹی اہلکار اور 18 پولیس اہلکار وطن پر قربان ہوئے، جبکہ جوابی کارروائیوں میں 54 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گرد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان یا اسلام کی جنگ لڑ رہے ہیں، حالانکہ ان کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بلوچستان سے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے عناصر دائرۂ اسلام سے خارج ہیں اور معصوم شہریوں کے قاتل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ زیارت میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، تاہم سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی بھرپور جوابی کارروائی میں کم از کم 15 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ہنہ اوڑک کے علاقے میں بھی معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، لیکن سیکیورٹی فورسز نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہونے والے تینوں حملوں میں مجموعی طور پر 42 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 18 پولیس اہلکار بھی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔

 ان کے بقول بلوچستان کے عوام اور پولیس نے انتہائی بہادری اور دلیری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں مجموعی طور پر 54 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، جبکہ دہشت گردی کے ان واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور بلوچستان کے عوام دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، اور ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والی ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔