کائٹ فلائنگ ایکٹ کیس:ہائیکورٹ میں 3 اعلیٰ افسرآج طلب

 ایس ایس پی آپریشنز اورڈپٹی کمشنر لاہور کو نئی رپورٹس جمع کرانے کا حکم
 کوئی فیک نیوز کی پوسٹ وائرل ہو تو فوری کارروائی ہونی چاہیے:عدالت
لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ میں کائٹ فلائنگ ایکٹ پر عملدرآمد روکنے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کیلئے دائر درخواستوں پر عدالت نے ڈی جی والڈ سٹی، ڈی جی پی ایچ اے اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو آج (منگل )کو طلب کر لیا جبکہ ایس ایس پی آپریشنز اور ڈی سی لاہور کو نئی رپورٹس جمع کرانے کا حکم دے دیا۔دورانِ سماعت عدالت نے بسنت کے موقع پر فیک نیوز کے خلاف مئوثر کارروائی یقینی بنانے کیلئے ڈی سی لاہور کو ایف آئی اے کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ اگر کوئی فیک نیوز کی پوسٹ وائرل ہو تو فوری کارروائی ہونی چاہیے۔درخواست گزار کے وکیل نے مئوقف اختیار کیا کہ دو روز قبل بھی لاہور میں ڈور پھرنے کا واقعہ پیش آیا، سوال یہ ہے اس وقت انتظامیہ کہاں تھی؟ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں ایسے واقعات کیوں نہیں رک رہے؟۔ عدالت نے ڈور پھرنے کے واقعات بارے ایس ایس پی کو تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔عدالتی استفسار پر لیسکو حکام نے عدالت کو آگاہ کیا کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر لی ،دو روز کے اندر تمام خطرناک مقامات پر تاروں کی مرمت اور دیگر ضروری کام مکمل کر لئے جائیں گے۔ڈی سی لاہور نے عدالت کو بتایا کہ ضلعی انتظامیہ بھی لیسکو کے ساتھ مل کر خطرناک مقامات کی نشاندہی کر رہی ہے۔ ڈی جی پی آر نے بتایا کہ بسنت کے حوالے سے وسیع آگاہی مہم چلائی جا رہی ہے یہ پیغام دن میں تقریباً 14 سے 15 مرتبہ نشر کیا جا رہا ہے۔سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ 57 کلینک آن ویلز فیلڈ میں موجود ہوں گے۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو گانوں پر پابندی کے حوالے سے رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے پتنگوں کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ بھی اٹھایا جس پر عدالت نے ڈی سی لاہور سے وضاحت طلب کی توڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ پتنگوں کی طلب زیادہ جبکہ سپلائی کم تھی، اسی لئے دوسرے اضلاع سے پتنگیں منگوانے کی اجازت دیدی گئی،عدالت نے مزید سماعت ملتوی کر دی۔