پتنگ بازی اور پتنگ سازی کے لئے ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا لازمی ہوگی،پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری

پتنگ بنانے، بیچنے کیلئے لائسنس لازمی قرار
مخصوص مقامات پر مخصوص دنوں میں مقررہ وقت کیلئے غیر خطرناک مواد کیساتھ پتنگ بازی ممکن ہو سکے گی ، پتنگ باز تنظیموں کو رجسٹریشن بھی کروانا ہوگی،سب انسپکٹر کو کسی بھی مقام پر تلاشی ، بغیر وارنٹ گرفتاری ،ممنوعہ سامان قبضے میں لینے کا اختیار مل گیا
لاہور( کرائم رپورٹر ) پنجاب میں پتنگ بنانے اور بیچنے کیلئے لائسنس لازمی قرار دیدیا گیا ،پنجاب میں ڈپٹی کمشنر کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیارتفویض کرتے ہوئے پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 جاری کردیا گیا۔ ڈور پھرنے سے نوجوان جاں بحق ہونے کے 40روز بعد خونیں کھیل کو پھرقانونی جواز مل گیا۔نئے آرڈیننس کے تحت پتنگ بازی اور پتنگ سازی کے لئے ڈپٹی کمشنر سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔ حکومت اور ڈپٹی کمشنر کو اختیار ہوگا کہ وہ مخصوص مقامات پر مخصوص دنوں میں مقررہ وقت کیلئے غیر خطرناک مواد کے ساتھ محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں، مگر غیر خطرناک مواد کی آرڈیننس میں تشریح ہی نہیں کی گئی ہے۔پتنگ سازی اور پتنگ فروخت کے لئے رجسٹریشن کروانا لازمی قرار جبکہ پتنگ باز تنظیموں کے لئے رجسٹریشن بھی کروانا ہوگی، رجسٹریشن کروانے کے بعد پتنگیں بنانے اور فروخت کرنے کا لائسنس ہوگا، جاری آرڈیننس کے مطابق 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس مکمل طور پر منسوخ کردیا گیا۔ سابق آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو درست قرار دیا گیا۔ آرڈیننس میں پولیس کو بے پناہ اختیارات دئیے جارہے ہیں، جس کے مطابق سب انسپکٹر رینک کا پولیس افسر بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گا، اور کسی بھی مقام پر داخل ہو کر سرچ کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے ، ممنوعہ سامان قبضے میں لے سکے گا، حکومت ضرورت پڑنے پر کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہی اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔