بلوچستان میں طویل عرصے تک امن قائم رہا اور ترقیاتی کام بھی ہوئے،بھارتی پراکسی بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں‘ دہشتگرد گروہوں کی قیادت افغانستان میں مقیم ہے
دہشتگرد گروہ جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں ‘ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی کی جائے گی‘ ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے
اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں بلوچستان کی صورتحال پر بحث کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صوبے میں ایک طویل عرصے تک امن قائم رہا اور ترقیاتی کام بھی ہوئے، تاہم بعض عناصر جو مبینہ طور پر بھارت کی حمایت یافتہ پراکسی کے طور پر کام کر رہے ہیں، بدامنی پھیلانے میں ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دہشتگرد گروہوں کی قیادت افغانستان میں مقیم ہے جہاں سے انہیں معاونت ملتی ہے۔وزیر دفاع نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں کھربوں روپے کے ریونیو نقصانات زیادہ تر تیل کی اسمگلنگ کی مد میں ہوتے تھے۔ سستا تیل سرحدی علاقوں سے لا کر بڑے شہروں میں مہنگے داموں فروخت کیا جاتا تھا، جسے موجودہ حکومت نے سخت اقدامات سے روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں کے بعد بعض گروہوں نے ردعمل کے طور پر بدامنی کو ہوا دی۔دہشت گرد ایرانی تیل کی سمگلنگ سے روزانہ 4ارب روپے کما رہے ہیں‘خواجہ آصف نے کہا کہ بعض عناصر کی نہ کوئی واضح سیاسی شناخت ہے اور نہ قوم پرستانہ، بلکہ یہ کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ دہشتگرد گروہ جدید اسلحہ استعمال کر رہے ہیں اور نہتے شہریوں، مزدوروں اور مسافروں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی کی جائے گی اور ان سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔انہوں نے کہا بلوچستان کے جغرافیے کی وجہ سے وہاں پر بڑے پیمانے پر فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی ضرورت ہے