اینٹی کرپشن ٹیم نے شاہدہ حفیظ کو چشتیاں میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا
چشتیاں(تحصیل رپورٹر)اینٹی کرپشن حکام نے محکمہ تعلیم بہاولنگر کے ضلعی افسران کی 100کروڑ روپے کی کرپشن کا سراغ لگا کر سابق سی ای او بہاولنگر شاہدہ حفیظ کو چشتیاں میں انکی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا ہے۔ملک محمد اکرم ذکی سرکل آفیسر اینٹی کرپشن بہاولنگر کی جانب سے درج کرائے گئے مقدمہ نمبر 02/25 کے مطابق شاہدہ حفیظ نے اجمل نثار ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر بہاولنگر،راشد جمیل ڈائریکٹر بجٹ و دیگر نیب زدہ کلرکوں،آڈٹ افسروں وغیرہ نے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے ضلع بھر کے 200ہائی سکولوں کی تعمیر وترقی کیلئے 85کروڑ روپئے کی ایڈیشنل گرانٹ جاری کردی جبکہ سکولوں کے ہیڈماسٹرز کے پاس ڈی ڈی او پاورز بھی نہیں تھی۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرنے بغیر کوٹیشن آرڈر دیدئے جبکہ کلرکوں نے سامان دیے بغیر جعلی بل بنا کر ساری رقم لکھوالی،20سے25لاکھ روپئے کی رقم ہر سکول کو دیدی اور باقی ساری رقم سی سی او بہاولنگر،ڈی ای او سیکنڈری بہاولنگرعبدالصمد خزانہ آفیسر،رفیق شاہد عباسی اکاؤنٹ آفیسر،ساجد جودھیانہ ڈپٹی اکاؤنٹ آفیسر،حافظ حسین احمد نے ہڑپ کرلی۔مقدمہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عمیر احمد ہیڈماسٹر نے 58لاکھ50ہزار روپئے نکلوائے اور سکول پر ایک روپیہ خرچ نہیں کیا،1995میں ڈی ای او ایجوکیشن زنانہ بہاولنگرنے جعلی تقرریاں کیں جس کیس نیب میں زیر سماعت ہے،1997میں ڈی ای او مردانہ بہاولنگر نے بھی جعلی تقرریاں کیں جن کو سیکرٹری ایجوکیشن نے منسوخ کردیا لیکن سابق سی ای او ایجوکیشن بہاولنگر اسلم اعجاز،سابق سی ای او ایجوکیشن بہاولنگر شاہدہ حفیظ نے لاکھوں روپئے رشوت لیکر نوکریوں سے فارغ افراد کو بحال کرکے لاکھوں روپے تنخواہ بھی دیدی،اجمل نثار ڈی ای او سیکنڈری بہاولنگر نے عامر شاہ کلرک سے مل کر ایک ٹیچر کے علاوہ ایسے کلرکوں کو بھی ترقی دیدی جن کے خلاف نیب ملتان میں کیس چل رہاہے جبکہ رشوت نہ دینے پر سیکڑوں ٹیچرز کی مختلف فائلیں زیر التوا ہیں۔