ایران میں غیرقانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش پر 10 افغان شہری ایرانی گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک

ایران میں غیرقانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش پر 10 افغان شہری ایرانی گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک

افغان حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کم از کم 10 افغان شہری ایرانی بارڈر گارڈز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

یہ واقعہ صوبہ فراہ کے علاقے میں پیش آیا، جہاں یہ افراد روزگار کی تلاش میں ایران جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ترجمان محمد نسیم بدری کے مطابق، یہ تمام افراد صوبہ فراہ کے رہائشی تھے اور پیر کی رات شیخ ابو نصر فراحی بارڈر پوائنٹ کے ذریعے سرحد عبور کر رہے تھے۔ اس دوران ایرانی بارڈر گارڈز نے انہیں روکنے کے بجائے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔ مزید یہ کہ اس گروہ کے 2 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ واقعے کے بعد سے ایران کی طرف سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور دونوں ممالک کے حکام تحقیقات میں مصروف ہیں۔یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا ہے جب ایران اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔حالیہ برسوں میں ایران نے افغان مہاجرین کو زبردستی واپس بھیجنے کی پالیسی اپنائی ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

 افغانستان کا کہنا ہے کہ ایرانی فوج اور گارڈز غیر قانونی سرحد عبور کرنے والے افغان شہریوں کے خلاف فائرنگ کے واقعات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ ایران کا موقف ہے کہ سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس واقعے کے بعد سرحدی نگرانی اور سرحدی قوانین کے نفاذ پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، اور دونوں ممالک کے حکام تحقیقات مکمل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ سرحدی کشیدگی اور انسانی حقوق کے مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے، کیونکہ بہت سے افغان شہری روزگار، بہتر زندگی اور سرحد پار کرنے کی کوشش میں اپنی جانوں کا خطرہ مول لیتے ہیں۔