پاکستان میں مہنگائی کی صورتحال میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور عوام پر ادویات کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں میں بھی بھاری بوجھ پڑا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے، اور 80 ہزار سے زیادہ ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔
ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر منتقل: حکومت کی جانب سے میڈیکل ڈیوائسز پر 70 فیصد ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ ساتھ، فارما کمپنیوں نے بھی ٹیکسوں کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیا ہے۔ ایک فارما ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2024ء کا سال ادویات کی مہنگائی کے حوالے سے بدقسمت ترین رہا ہے۔ اس سال ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہو گئی ہے۔
حکومت کے دعوے اور حقیقت: حکومت نے مہنگائی کی شرح کم کرنے کے حوالے سے کئی دعوے کیے تھے، تاہم ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے باعث حکومت پر مزید تنقید ہو رہی ہے، کیونکہ اس فیصلے سے صحت کے شعبے میں مشکلات بڑھ گئیں ہیں۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ: مقامی فارما کمپنیوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیچھے ٹیکسوں کا اضافہ، مہنگائی اور مختلف حکومتی فیصلوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں عوام کو صحت کی بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، اور کئی افراد ادویات کی خریداری کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟ ماہرین کے مطابق، اگر حکومت نے اس صورتحال کو فوری طور پر نہیں روکا، تو عوام کی زندگی مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔ کئی افراد کے لیے ادویات کی قیمتوں کا اتنا اضافہ صحت کی ضروریات کو پورا کرنا مشکل بنا دے گا۔اس وقت ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے، اور حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری مداخلت کرے۔