کراچی: پی ای سی ایچ ایس کے رہائشی نوجوان تاجر میر رضا علی کی گلستانِ جوہر سے لاش ملنے کے معاملے میں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ واقعہ قتل تھا، خودکشی یا کسی اور نوعیت کا معاملہ۔
تفتیشی حکام سی سی ٹی وی فوٹیجز، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر ثبوتوں کی مدد سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔تفتیشی ذرائع کے مطابق 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ میر رضا علی تقریباً ساڑھے تین بجے بہادرآباد چورنگی پر واقع اپنی دکان سے سکیورٹی گارڈ کا 30 بور پستول لے کر اپنی گاڑی میں روانہ ہوا اور بعد ازاں گھر پہنچ گیا۔ذرائع کے مطابق گھر پہنچنے کے بعد اس نے اپنی گاڑی، اسمارٹ واچ، گھر کی چابیاں اور 39 ہزار روپے وہیں چھوڑ دیے۔ اس کے بعد اس نے آن لائن ٹیکسی بک کی اور صبح 4 بج کر 8 منٹ پر گلستانِ جوہر کے لیے روانہ ہوگیا۔ بعد کی فوٹیجز میں اسے جوہر کی سڑک پر اکیلے چلتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔تحقیقات کے مطابق میر رضا نے تقریباً 4 بج کر 22 منٹ پر جوہر موڑ ہل ٹاپ کے قریب اپنا موبائل فون بند کر دیا، جبکہ 4 بج کر 28 منٹ پر وہ گلستانِ جوہر بلاک 2 میں ٹیکسی سے اتر گیا۔ پولیس اس کے بعد کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق میر رضا ڈیجیٹل کرنسی اور سرمایہ کاری سے متعلق کاروبار بھی کرتا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2025 سے اسے مالی مشکلات کا سامنا تھا اور اپریل میں بھاری نقصان اٹھانے کے بعد اس نے مختلف افراد سے قرض لیا، جس کے باعث مبینہ طور پر اس پر 5 سے 8 کروڑ روپے تک واجب الادا تھے۔ ذرائع کے مطابق بیرون ملک مقیم ایک دوست نے بھی 75 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی تھی، جس کا منافع ادا نہیں کیا جا سکا۔
پولیس نے میر رضا کی منگیتر کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں کے درمیان 28 جولائی کی رات تقریباً ساڑھے 11 بجے تک رابطہ رہا، جبکہ رات تقریباً 3 بجے منگیتر نے 20 منٹ کے دوران 40 سے زائد کالز اور پیغامات بھیجے، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ میر رضا نے گھر سے روانہ ہونے سے قبل اپنے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے تھے اور اپنے والد کے اکاؤنٹ میں ڈھائی لاکھ روپے بھی منتقل کیے تھے۔پولیس کے مطابق میر رضا دکان کے سکیورٹی گارڈ کا پستول بھی اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ جائے وقوع سے اس پستول کا ہولسٹر تو مل گیا، تاہم اسلحہ تاحال برآمد نہیں ہو سکا۔تفتیشی حکام کے مطابق لاش ملنے والی جگہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک موٹر سائیکل کو مختصر وقت کے لیے وہاں رکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ ابتدائی شواہد کی بنیاد پر شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاش علی الصبح اس مقام پر لا کر پھینکی گئی، جبکہ ہولسٹر بھی ممکنہ طور پر وہیں پھینکا گیا۔
ادھر پولیس نے یونیورسٹی روڈ سے میر رضا کا موبائل فون بھی برآمد کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق موبائل تین مزدوروں کو ملا تھا، جن سے رابطہ کر کے فون اپنی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں، بشمول قتل اور خودکشی، کا غیر جانبدارانہ انداز میں جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب میر رضا کے والدین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے خودکشی نہیں کی بلکہ اسے منصوبہ بندی کے تحت اغوا، تشدد اور فائرنگ کے بعد قتل کیا گیا، اور انہوں نے واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔