میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن نے پولیس افسران، ڈرائیور، بزنس پارٹنرز اور دوستوں کو طلب کرلیا

میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن نے پولیس افسران، ڈرائیور، بزنس پارٹنرز اور دوستوں کو طلب کرلیا

کراچی: میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں جوڈیشل کمیشن نے پولیس افسران سمیت آن لائن ٹیکسی ڈرائیور، مقتول کے بزنس پارٹنرز اور دوستوں کو بھی طلب کرلیا ہے۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے ایس ڈی پی او شاہراہِ فیصل اور ایس ایچ او فیروز آباد کو سمن جاری کیے گئے ہیں، جبکہ بائیک ڈرائیور احسان کو بھی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ میر رضا کے بزنس پارٹنرز محمد احمد اور عبداللہ بھردے جبکہ مقتول کے دوست رازق اور حثیم کو بھی سمن جاری کرکے طلب کیا گیا ہے۔جوڈیشل کمیشن نے تمام طلب کیے گئے افراد کو 3 ستمبر کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اہم گواہوں کے بیانات پہلے ہی ریکارڈ
میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے دوران جوڈیشل کمیشن اب تک مقتول کے اہل خانہ، نرسری کے ملازمین اور ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر سمیت دیگر افراد کے بیانات ریکارڈ کرچکا ہے۔اب پولیس افسران، ڈرائیور، بزنس پارٹنرز اور مقتول کے قریبی دوستوں کو طلب کیے جانے کے بعد کیس کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔کمیشن کی جانب سے مختلف افراد کے بیانات ریکارڈ کرنے کا مقصد واقعے کے مختلف پہلوؤں، مقتول کی سرگرمیوں، ممکنہ روابط اور قتل سے قبل و بعد کی صورتحال سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنا ہے۔جوڈیشل کمیشن کی کارروائی جاری ہے اور آئندہ سماعت میں طلب کیے گئے افراد کے بیانات بھی اہم قرار دیے جارہے ہیں۔