محمد عامر کی شاندار بولنگ، ٹرینٹ راکٹس کی سن رائزرز لیڈز پر سنسنی خیز فتح

محمد عامر کی شاندار بولنگ، ٹرینٹ راکٹس کی سن رائزرز لیڈز پر سنسنی خیز فتح

دی ہنڈرڈ میں ٹرینٹ راکٹس نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد سن رائزرز لیڈز کو 5 رنز سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی، جبکہ پاکستانی فاسٹ بولر محمد عامر نے شاندار بولنگ سے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔

ٹرینٹ راکٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 100 گیندوں میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 146 رنز بنائے۔ اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور اوپنر فن ایلن جلد ہی پویلین لوٹ گئے، تاہم بین ڈکٹ اور اینورن ڈونلڈ نے ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 35 گیندوں پر 63 رنز کی شاندار شراکت قائم کی، جس نے ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔اینورن ڈونلڈ نے صرف 19 گیندوں پر 40 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، جبکہ بین ڈکٹ نے بھی اہم رنز اسکور کیے۔ اختتامی لمحات میں سیم بلنگز اور ٹم ڈیوڈ بڑی شاٹس کھیلنے میں کامیاب نہ ہو سکے، جس کے باعث ٹیم 146 رنز تک محدود رہی۔147 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سن رائزرز لیڈز کا آغاز انتہائی مایوس کن رہا اور اوپنر ریان رکلٹن بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد مچل مارش اور زیک کرولی نے اننگز کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم مطلوبہ رفتار سے رنز نہ بنا سکے۔زیک کرولی نے مچل سینٹنر کے ایک اوور میں تین چوکے لگا کر ٹیم کو امید دلائی، لیکن 26 رنز بنانے کے بعد وہ سینٹنر کی گیند پر بولڈ ہوگئے۔ میچ کے آخری مرحلے میں سن رائزرز کو جیت کے لیے 20 گیندوں پر 35 رنز درکار تھے، جبکہ ہیری بروک اور مچل مارش کریز پر موجود تھے۔

ایسے نازک موقع پر محمد عامر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے لگاتار 10 گیندوں میں صرف 10 رنز دیے اور دونوں سیٹ بلے بازوں، مچل مارش اور ہیری بروک، کو آؤٹ کر کے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ ان کی نپی تلی بولنگ نے سن رائزرز کی امیدیں ختم کر دیں۔میچ کے اختتامی تین سیٹس میں میٹ ہنری، لیوس گریگوری اور محمد عامر نے مجموعی طور پر صرف 24 رنز دیے، جس کے باعث سن رائزرز لیڈز مقررہ گیندوں میں ہدف حاصل نہ کر سکی اور ٹرینٹ راکٹس نے 5 رنز سے اہم کامیابی اپنے نام کر لی۔محمد عامر نے اپنے مقررہ اسپیل میں 20 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں حاصل کیں، جبکہ اینورن ڈونلڈ کی جارحانہ اننگز کے ساتھ ان کی بولنگ اس فتح کی بنیاد ثابت ہوئی۔ اس کامیابی کے بعد ٹرینٹ راکٹس نے پوائنٹس ٹیبل پر اپنی پہلی پوزیشن مزید مستحکم کر لی، جبکہ عامر کی کارکردگی کو شائقین اور کرکٹ ماہرین کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔