وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کے حملے کی شدید ترین مذمت کی ہے۔
ایک جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اس فلوٹیلا میں 44 ممالک کے 450 سے زائد امدادی کارکن سوار تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے غیرقانونی طور پر حراست میں لے لیا۔وزیراعظم نے کہا کہ ان بے لوث کارکنان کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے لیے امداد پہنچا رہے تھے۔ پاکستان تمام گرفتار شدہ کارکنان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام تک امداد کی بلا تعطل ترسیل کا بھی مطالبہ کرتا ہے اور اسرائیلی بربریت کو فوری طور پر روکنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔
وزیراعظم نے اس موقع پر فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کو بھی سب سے اہم عالمی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ مظلوم فلسطینیوں تک امداد پہنچائی جا سکے اور امن قائم ہو۔