اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا، سعد ایدھی سمیت کارکن حراست میں

اسرائیلی بحریہ کا گلوبل صمود فلوٹیلا پر دھاوا، سعد ایدھی سمیت کارکن حراست میں

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کے لیے انسانی امداد لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روک کر اس میں سوار متعدد کارکنوں کو حراست میں لے لیا، جن میں ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعد ایدھی 14 مئی کو ترکیہ کے شہر مارماریس سے روانہ ہونے والے امدادی مشن “فریڈم فلوٹیلا” میں شامل ہوئے تھے۔ یہ مشن غزہ کے متاثرین تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، جس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 500 سے زائد کارکن شریک تھے۔روانگی سے قبل اپنے ویڈیو پیغام میں سعد ایدھی نے بتایا تھا کہ اس مشن کا مقصد غزہ میں جنگ اور محاصرے سے متاثرہ شہریوں تک امدادی سامان پہنچانا ہے، جبکہ قافلے کو 6 سے 7 روز میں اپنی منزل تک پہنچنے کی امید تھی۔تاہم اطلاعات کے مطابق 18 مئی کو اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب بڑھنے والے “صمود فلوٹیلا” کو سمندر میں روک لیا اور اس میں شامل کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ زیرِ حراست افراد میں سعد ایدھی بھی شامل ہیں۔

تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس کارروائی کی تفصیلات یا حراست میں لیے گئے کارکنوں کی قانونی حیثیت سے متعلق باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے باعث مختلف عالمی تنظیمیں اور رضاکار گروپس امدادی مشنز کے ذریعے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان متاثرین تک پہنچانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔