لاہور: سیشن کورٹ میں معروف یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کے خلاف جوئے کی ایپ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سرکاری وکیل نے تفصیلی دلائل پیش کیے۔ عدالت نے ملزم کی بعد از گرفتاری درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈکی بھائی اس جوئے کی ایپ کا برانڈ ایمبیسڈر تھا اور اس کے ساتھی بھی پروموشن میں شامل تھے، جنہیں پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ایک اور شریک ملزم سبحان شریف کو بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔دلائل میں بتایا گیا کہ ملزم نے تاثر دینے کی کوشش کی کہ کیس میں کوئی متاثرہ شخص نہیں، لیکن حقیقت میں متعدد افراد نے مالی نقصان اٹھایا۔دوران تفتیش ڈکی بھائی سے ریکوری کی گئی، لیکن جوئے کی ایپ سے حاصل شدہ رقم پر تسلی بخش جواب نہیں ملا۔عدالت میں پیش کیے گئے ریکارڈ کے مطابق پی ٹی اے اور ایس ای سی پی نے ان ایپس کو ریگولرائز نہیں کیا، جبکہ بائیونیمو کی ویب سائٹ پاکستان میں بین ہے۔
جوئے کی ایپس کے ذریعے کمائی گئی رقم بینکوں میں منتقل ہوئی، جس کے اسٹیٹمنٹس اور دستاویزات موجود ہیں۔سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈکی بھائی کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع کی گئی، کیونکہ یہ ایپس نوجوانوں کو جوئے کی طرف راغب کر رہی تھیں۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور جلد سماعت کے ذریعے حکم جاری کیا جائے گا۔یہ کیس نوجوانوں میں جوئے کی تشہیر اور مالی نقصانات کے حوالے سے ملک میں قابل توجہ قانونی کارروائی ہے۔