افغانستان میں دو روزہ بلیک آؤٹ ختم، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال

افغانستان میں دو روزہ بلیک آؤٹ ختم، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بحال

کابل: افغانستان میں دو روز تک جاری رہنے والے مکمل بلیک آؤٹ کے بعد بدھ کی شام پورے ملک میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بحال کر دیے گئے۔

 طالبان حکومت نے پیر کی شب بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ملک بھر میں ٹیلی کمیونی کیشن سروسز معطل کر دی تھیں، جس سے کاروباری لین دین، تعلیمی سرگرمیاں اور عوامی رابطے بری طرح متاثر ہوئے۔رپورٹس کے مطابق بدھ کی شام سگنلز اور وائی فائی کابل، قندھار، خوست، غزنی، ہرات اور دیگر شہروں میں دوبارہ بحال ہو گئے، جس کے بعد شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے۔ عوام نے خوشی کے اظہار کے لیے گاڑیوں کے ہارن بجائے، مٹھائیاں تقسیم کیں اور غبارے خریدے۔ مقامی شہریوں نے کہا کہ "یوں لگا جیسے شہر دوبارہ زندہ ہوگیا ہے۔"

یہ پہلا موقع تھا کہ طالبان کے 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد پورے ملک میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کو اس پیمانے پر معطل کیا گیا۔انٹرنیٹ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق یہ بلیک آؤٹ "جان بوجھ کر کنکشن منقطع کرنے" کا نتیجہ تھا۔اقوام متحدہ نے اس بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغانستان کو دنیا سے کاٹ دینا عوامی مشکلات میں اضافے کے مترادف ہے، اور فوری بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔